دیگر ممالک

’آبنائے ہرمز‘ معاملے میں ڈونالڈ ٹرمپ کو ’ناٹو‘ ممالک کا نہیں مل رہا ساتھ

آبنائے ہرمز کے بند ہونے پر امریکی تیل کمپنیوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ اگر جلد ہی کوئی راستہ نہیں نکلا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی 

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور ’آبنائے ہرمز‘ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر چوطرفہ دباؤ پڑ رہا ہے۔ ایک طرف مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کے ٹھکانوں پر ایرانی حملے جاری ہیں، تو دوسری طرف ٹرمپ گھریلو محاذ پر بھی گھرتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کا ایک بڑا طبقہ اس کشیدگی کے خلاف ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس مشکل وقت میں بھی ٹرمپ کو اپنے اتحادی ’ناٹو‘ ممالک کی مدد نہیں مل پا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اتحادی ممالک کو وارننگ دی ہے کہ ناٹو گروپ کا مستقبل اچھا نہیں ہے۔

Published: undefined

ایک انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ناٹو کے اتحادی ممالک کو واضح طور پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود اٹھانی چاہیے۔‘‘ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’یہ بالکل درست ہے کہ آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک یہ یقینی بنائیں کہ وہاں کچھ بھی غلط نہ ہو۔ اگر کوئی کچھ نہیں کرتا یا مدد نہیں کرتا تو مجھے لگتا ہے کہ یہ ناٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ہوگا۔‘‘ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہمیں یوکرین کے معاملے میں ان کی مدد کی ضرورت نہیں پڑی۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرتے ہیں یا نہیں، کیونکہ میں طویل عرصے سے کہتا آ رہا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے لیکن وہ ہمارے ساتھ نہیں کھڑے رہیں گے۔‘‘

Published: undefined

غور طلب ہے کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز کے علاقے میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے جنگی جہازوں کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے تقریباً 7 ممالک سے آبنائے ہرمز میں اپنے جنگی جہاز تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’ہم ناٹو کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کون سا ملک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں ہماری مدد کرے گا۔‘‘

Published: undefined

دوسری جانب مغربی ایشیا کے بحران میں امریکہ پھنستا ہوا نظر آ رہا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر اعلیٰ رہنماؤں کی موت کے بعد بھی ایران جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے اور مسلسل مغربی ایشیا میں امریکی ٹھکانوں اور اسرائیل پر حملے کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش بھی کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ پڑا ہے۔ امریکی تیل کمپنیوں نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ اگر جلد ہی کوئی راستہ نہیں نکلا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined