
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی فضائی سیکورٹی میں بڑی چوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) اس فضائی ’سیکورٹی واقعے‘ کی جانچ میں مصروف ہے۔ صدر کا ’میرین وَن‘ ہیلی کاپٹر واشنگٹن ڈی سی کے اوپر ایک دوسرے طیارے کے انتہائی قریب آ گیا تھا، اور یہ ضوابط کے مطابق درست نہیں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ منگل کی دوپہر جب صدر ٹرمپ کو لے کر فوجی ہیلی کاپٹر نے وائٹ ہاؤس سے پرواز بھری، تو ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) غلطی سے شمالی ورجینیا کے رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر کمرشیل پروازوں کو روکنے میں ناکام رہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو ایک ذرائع نے بتایا کہ پرواز کے دوران ’فاصلے میں کمی‘ (لاس آف سیپریشن) کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں ہیلی کاپٹر اور فلوریڈا جانے والا ایک مسافر طیارہ، جو کچھ دیر پہلے ہی روانہ ہوا تھا، ضوابط میں مقرر حد سے زیادہ قریب آ گئے۔ تاہم دونوں طیارے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی حالت میں نظر نہیں آ رہے تھے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ میرین وَن کی سیکورٹی سے متعلق ایک واقعے کی جانچ کر رہا ہے، لیکن ایسا نہیں لگتا کہ یہ کوئی خطرناک صورت حال تھی یا طیارے ایک دوسرے سے ٹکرانے والے تھے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے وال اسٹریٹ جرنل سے کہا کہ ’’میرین وَن کی پروازیں دنیا کے کچھ بہترین پائلٹ اڑاتے ہیں، اور صدر کو کسی بھی وقت کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘‘ تاہم 2 طیاروں کے انتہائی قریب آ جانے کا یہ واقعہ گزشتہ سال جنوری میں ملک کی راجدھانی کے اوپر ایک کمرشیل ایئرلائنر اور فوج کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کے درمیان ہوئی ٹکر کے بعد فاصلے سے متعلق ضوابط سخت کیے جانے کے بعد پیش آیا ہے۔ اس حادثے میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومت نے اس واقعہ میں لاپروائی کا اعتراف کیا تھا۔ یہ فضائی حادثہ گزشتہ 2 دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے میں امریکی سرزمین پر پیش آنے والا سب سے ہلاکت خیز حادثہ تھا۔
اب منگل کے تازہ واقعے نے امریکی ہوابازی کی سیکورٹی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ منگل کے واقعے میں شامل طیارہ ایمبریئر ’ای 170‘ جیٹ تھا، جسے امریکن ایئرلائنز کی مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی ’اینوائے ایئر‘ نے فلائٹ 3742 کے طور پر پینساکولا کے لیے چلایا تھا۔ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ اویئر‘ کے مطابق یہ طیارہ منگل کو دوپہر 2:18 بجے ریگن نیشنل کے اپنے گیٹ سے نکلا، لیکن اس نے مقررہ وقت سے 34 منٹ کی تاخیر سے پرواز بھری اور فلائٹ 16 منٹ بعد، دوپہر 2:34 بجے ہوا میں تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔