دیگر ممالک

امریکی عدالت نے وائٹ ہاؤس کے بال روم پروجیکٹ پر روک لگائی

امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کے چار سو ملین ڈالر کے وائٹ ہاؤس بال روم منصوبے کو روک دیا ہے۔ عدالت کے 2-1 فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ اب سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکی عدالت نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ کل ایک امریکی وفاقی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے وائٹ ہاؤس بال روم منصوبے کو روک دیا۔ وفاقی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے منہدم شدہ ایسٹ ونگ کو تبدیل کرنے کے لیے چار سو ملین ڈالر کے بال روم منصوبے کی تعمیر روک دے۔ واشنگٹن میں ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ کے لیے امریکی عدالت اپیل نے 2-1 کے فیصلے میں کہا کہ "ہر صدر وائٹ ہاؤس کا عارضی کرایہ دار ہوتا ہے، اس کا مالک نہیں،" اور کانگریس کی منظوری کے بغیر کوئی بڑی تبدیلی نہیں کر سکتا۔

اس حکم نے نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پرزرویشن کی طرف سے حاصل کردہ ابتدائی حکم امتناعی کو برقرار رکھا۔ ٹرسٹ نے یہ مقدمہ پچھلے سال اس وقت دائر کیا جب انتظامیہ نے ایسٹ ونگ کو منہدم کر دیا اور کانگریس کی منظوری کے بغیر 90,000 مربع فٹ بال روم کی تعمیر شروع کر دی۔

پینل کی اکثریت نے لکھا، "یہ کانگریس کو طے کرنا ہے کہ آیا ایک عظیم الشان بال روم بنایا جانا چاہیے، نہ کہ ایگزیکٹو کے لیے کہ وہ خود یہ فیصلہ کرے۔" اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے کو 14 دن کے لیے روک دیا تاکہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کر سکے۔

ٹرمپ، جنہوں نے مسلسل دعویٰ کیا ہے کہ بال روم پراجیکٹ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ضروری ہے، نے جمعہ کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انتظامیہ سپریم کورٹ میں اپیل کرے گی۔ انہوں نے اس فیصلے کو خوفناک اور سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں اور وائٹ ہاؤس کے دیگر اہلکاروں کو حملے کا خطرہ لاحق ہے۔ٹرمپ نے لکھا کہ ’سپریم کورٹ کو اس غیر منصفانہ فیصلے کو مکمل طور پر کالعدم کر دینا چاہیے‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔