دیگر ممالک

ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ پر آج دستخط ہونے کا امکان، کیا ہے اس کا مقصد؟

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں سال مئی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی اور اقتصادی تعاون کے ڈھانچے کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کا پرچم، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کا پرچم، تصویر سوشل میڈیا

 

ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان جمعہ کے روز سعودی عرب میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔ اس خبر کے بعد ان ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں اضافے اور مبینہ ’اسلامی ناٹو‘ جیسی سیکورٹی تنظیم کے قیام سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ حالانکہ اس بارے میں پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ یہ انتظام کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہوگا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد علاقائی امن کو مضبوط بنانا اور بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں سال مئی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی اور اقتصادی تعاون کے ڈھانچے کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ مستقبل میں اس میں قطر اور ترکیہ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس تجویز پر مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے اور اسے حتمی شکل دینے کا عمل چل رہا ہے۔ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں تو یہ خطے کے لیے ایک مضبوط اقتصادی اور دفاعی تعاون کا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن اپنے خطہ کے امن اور سلامتی کے لیے اس طرح کا تعاون ضروری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران دونوں ممالک نے ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ پر دستخط کیے تھے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ تقریباً 8 دہائیوں پر محیط تعلقات، اسلامی یکجہتی، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے یہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

اس معاہدے کے بعد ہندوستان نے کہا تھا کہ وہ اس کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ ہندوستان اس دفاعی معاہدے کے اپنی قومی سلامتی، علاقائی اور عالمی استحکام پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندوستان اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔