
نیپال-تبت سیلاب، تصویر/آئی اے این ایس
نیپال میں آئے سیلاب کے کئی روز گزر گئے ہیں، لیکن تباہی کا منظر اب بھی لوگوں کو خوف میں مبتلا کر رہا ہے۔ بکھرے ہوئے ملبے میں زندگیوں کی تلاش کی مہم اب بھی جاری ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 4 ہزار افراد لاپتہ ہیں اور ریسکیو میں مصروف ایجنسیوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 962 افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ نواکوٹ ضلع میں ریسکیو آپریشن کے دوران منگل کے روز دل دہلا دینے والا منظر سامنے آیا۔ نواکوٹ ضلع کے ویترونتی میں ریسکیو کے دوران ایک ہی گھر سے 23 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ نیپال سیلاب کے بعد ہندوستان کی ندیوں سے بھی لاشیں بر آمد ہو رہی ہیں۔ ہندوستان کی حدود میں بہنے والی گنڈک ندی میں 23 لاشیں ملی ہیں۔ ہندوستان اب ان لاشوں کو نیپالی ایجنسیوں کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
نیپال سیلاب کے سبب اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس قدرتی آفت کو کئی روز گزر چکے ہیں، لیکن لاپتہ افراد کی تعداد اب بھی ہزاروں میں ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 4 ہزار افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ رسووا ضلع کے اترگیا گاؤں میں تقریباً 350 طلباء لاپتہ ہیں۔ تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں بھی 40 سے 42 انجینئر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں چھٹے دن بھی ریسکیو آپریشن شروع نہیں ہو سکا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پروجیکٹ میں تقریباً 40 سے 42 انجینئر آفت کے وقت کام کر رہے تھے۔ تقریباً ایسے ہی حالات تریشولی 3 بی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے بھی ہیں۔
تریشولی 3 بی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں اب بھی 118 افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ تریشولی 3 بی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں پھنسے 118 افراد میں انجینئرز اور دیگر حکام کے ساتھ ساتھ مزدور بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کسی سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ نیپال سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب وبا کا خطرہ لاحق ہے۔ سانحے کے 7 دنوں بعد اب بدبو پھیلنے لگی ہے۔ اس کی وجہ ملبے اور دلدل میں دبی لاشوں کا گلنا اور سڑنا شروع ہو جانے کو بتایا جا رہا ہے۔ ایسے میں اب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی اور وبا پھیلنے سے روکنے کا چیلنج بھی ایجنسیوں کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔