
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم لکسن اور ہندوستانی وزیر اعظم مودی، تصویر ’ایکس‘ @chrisluxonmp
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر آج مہر لگنے والی ہے۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے سوشل میڈیا پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے بارے میں دہائیوں سے کہا جا رہا تھا کہ ممکن نہیں ہوگا، لیکن آج یہ حقیقت بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ’’ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے میں ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملا تھا۔ تب ہم اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ ہم آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کریں گے۔ دہائیوں تک کئی لوگوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، لیکن آج رات اس معاہدے پر دستخط ہونے والے ہیں۔‘‘
Published: undefined
لکسن کا کہنا ہے کہ ’’یہ ایک نسل میں ایک بار ہونے والا معاہدہ ہے، جو نیوزی لینڈ کے برآمد کنندگان کو 1.4 ارب لوگوں تک ایسی رسائی دے گا جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھی، اور ایک ایسی معیشت سے جوڑ دے گا جو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کھیتوں اور باغات میں زیادہ روزگار، مقامی برادریوں میں زیادہ سرمایہ، اور آپ کے خاندان کے لیے ترقی کے مزید مواقع۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ اس معاہدے پر ’بھارت منڈپم‘ میں مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل اور ان کے ہم منصب ٹوڈ میکلے کی موجودگی میں دستخط کیے جائیں گے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہوگا۔
Published: undefined
اس معاہدے کا مقصد اگلے 5 برسوں میں دوطرفہ تجارت کو دوگنا کر کے 5 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، اور اس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع کھلنے کی امید ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا میں کشیدگی سمیت عالمی غیر یقینی صورتحال تجارتی بہاؤ کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ معاہدہ مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچہ، خدمات، اختراع اور روزگار کے مواقع جیسے شعبوں میں آئندہ 15 برسوں کے دوران نیوزی لینڈ سے ہندوستان میں اندازاً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستانی کمپنیوں کو نیوزی لینڈ کی منڈیوں میں بغیر کسی محصول کے داخلہ ملے گا، جبکہ نیوزی لینڈ سے ہندوستان کو درآمد ہونے والی تقریباً 95 فیصد مصنوعات پر محصول میں چھوٹ یا کمی دی جائے گی۔ ان مصنوعات میں اون، کوئلہ، لکڑی، شراب، سمندری غذا، چیری، ایوکاڈو اور بلیوبیری شامل ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined