رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ، تصویر سوشل میڈیا @NobelPrize
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کو میکرو اکنامک اسٹیبلائزیشن کی مائیکرو اکنامک بنیاد پر کام کے لیے معاشیات میں نوبل انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاشیات میں نوبل میموریل انعام کا اعلان پیر (12 اکتوبر) کو اسٹاک ہوم میں رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے کیا۔ یہ باوقار ایوارڈ، جسے باقاعدہ طور پر الفریڈ نوبل کی یاد میں اکنامک سائنسز میں سویریز رکس بینک پرائز کے نام سے جانا جاتا ہے، 1.2 ملین ڈالر کا ہے۔
امریکی جوڑی کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے نوبل پرائز کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے دکھایا کہ معاشی استحکام کی پالیسیوں کو بہتر بنانے کے لیے اقتصادی ماڈل کس طرح نئے سرے سے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ مہنگائی، پیداوار اور کھپت جیسے ’میکرو اکنامک‘ متغیرات کے درمیان شماریاتی تعلقات پر ماڈل بنانے کے بجائے، انہوں نے انہیں مائیکرو اکنامک بنیادوں پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ سال کاروباری ایجادات پر تحقیق کرنے والے 3 محققین کو یہ سمجھانے کے لیے انعام دیا گیا تھا کہ نئی مصنوعات اور ایجادات کس طرح اقتصادی ترقی اور انسانی فلاح و بہبود کو فروغ دیتی ہیں، خواہ اس عمل میں پرانی کمپنیاں پیچھے رہ جائیں۔
رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کو رواں سال معاشیات کا یہ انعام اس لیے دیا گیا ہے کہ انہوں نے دکھایا کہ معاشی استحکام کی پالیسیوں کو بہتر بنانے کے لیے اقتصادی ماڈل کس طرح نئے سرے سے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ مہنگائی، پیداوار اور کھپت جیسے میکرو اکنامک متغیرات کے درمیان شماریاتی تعلقات پر ماڈل بنانے کے بجائے، انہوں نے انہیں مائیکرو اکنامک بنیادوں پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں یہ سمجھنا شامل ہے کہ انفرادی گھرانے اور کاروبار اپنے فیصلوں کے ذریعے مجموعی طور پر معیشت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ ان ماڈلز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ گھرانے اور کاروبار بچت یا مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں فیصلے کرتے وقت مستقبل کو مدنظر رکھتے ہیں۔ جب حکومتیں اور مرکزی بینک معاشی پالیسیوں کے بارے میں اپنے منصوبوں کا اعلان کرتے ہیں تو وہ مستقبل کے حوالے سے لوگوں کے نقطۂ نظر کو متاثر کر سکتے ہیں اور معیشت کو درست سمت میں لے جا سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ نئے ماڈلز کے آنے کے بعد سے، وہ ان معاشی کساد بازاری سے نمٹنے میں بہت مددگار رہے ہیں، جنہوں نے ہمیں متاثر کیا ہے۔ معاشیات میں انعام کے لیے کمیٹی کے چیئرمین جان ہیسلر نے کہا کہ ’’انعام یافتگان کے کام نے ہمیں ان ماڈلز کے لیے ایک مضبوط نظریاتی بنیاد دی ہے، جن کا استعمال اب دنیا بھر کے مرکزی بینک اور حکومتیں کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ، ہم معیشت میں آنے والے جھٹکوں، جیسے توانائی کے بحران یا گھروں میں کھپت میں اچانک تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بہتر طریقے سے تیار ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔