خبریں

سائنسداں سمندر کے اندر بجلی بنانے میں ہوئے کامیاب، 10 میٹر گہرائی میں شمسی توانائی تکنیک کا کامیاب تجربہ

سمندر کے اندر شمسی توانائی کے استعمامل میں سب سے بڑا چیلنج سورج کی روشنی کا تیزی سے کم ہونا ہے۔ 10 میٹر کی گہرائی پر سورج کی تقریباً 10 فیصد روشنی ہی پہنچتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سمندر، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

سمندر، تصویر آئی اے این ایس

 

چین کے سائنسدانوں نے سمندر کے اندر شمسی توانائی کے استعمال کی سمت میں ایک اہم تجربہ کیا ہے۔ ینّان یونیورسٹی کی ٹیم نے کھلے سمندر میں 10 میٹر کی گہرائی پر پیروسکائٹ پر مبنی فوٹو وولٹائک نظام کا کامیاب تجربہ کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ سمندر کے نیلے سبز اور کم روشنی والے ماحول میں بھی شمسی توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس نظام نے پانی کے اندر بیٹریاں چارج کیں اور ایک ایل ای ڈی پینل کو بجلی فراہم کی۔ اس تحقیق سے متعلق نتائج 11 ستمبر کو جرنل میں شائع ہوئے۔

سمندر کے اندر شمسی توانائی کے استعمال میں سب سے بڑا چیلنج سورج کی روشنی کا تیزی سے کم ہونا ہے۔ 10 میٹر کی گہرائی پر سورج کی صرف تقریباً 10 فیصد روشنی ہی پہنچتی ہے۔ سرخ روشنی تقریباً پوری طرح پانی میں جذب ہو جاتی ہے، جبکہ سلیکان سولر سیل اسی روشنی میں بہتر کام کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے سائنسدانوں نے لیڈ ہیلائڈ پیروسکائٹ سولر سیل کا استعمال کیا۔ اس کا بینڈ گیپ تقریباً 1.96 ای وی ہے، جو پانی کے اندر موجود نیلے سبز روشنی کے مطابق ہے۔ پیروسکائٹ سیل کو کم روشنی میں بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ سمندری پانی میں پیروسکائٹ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ زنگ، پانی کا دباؤ، پیکیجنگ سے متعلق مسائل اور لیڈ کے رساؤ کا خدشہ اس کے سامنے بڑے چیلنجز ہیں۔ ان مسائل کو دور کرنے کے لیے سائنسدانوں نے پولی ہیکسامیتھیلین گوانیڈین ہائیڈروکلورائیڈ یعنی پی ایچ ایم جی کو کرسٹلائزیشن ایڈیٹیو کے طور پر استعمال کیا۔ اس سے سیل کو سمندری پانی میں زیادہ مستحکم بنانے میں مدد ملی۔

ینّان یونیورسٹی کے وین ہوا ژانگ نے سیل پریس کی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’پانی کے اندر استعمال ہونے والے پچھلے سولر سیل کے تجربات صرف 2 میٹر یا اس سے کم کی بہت کم گہرائی تک محدود تھے، جو عملی استعمال سے کافی دور تھے۔ یہ کام تقریباً 10 میٹر تک پانی کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے سولر سیل کے عملی آپریشن کی پہلی فعال تصدیق پیش کرتا ہے۔‘‘ لیبارٹری میں 10 میٹر کی گہرائی پر سورج کی روشنی جیسی صورت حال تیار کی گئی۔ 0.0895 مربع سینٹی میٹر حجم والے چھوٹے سیل نے 34.71 فیصد پاور کنورژن ایفیشینسی یعنی پی سی ای حاصل کی۔ وہیں، 28.79 مربع سینٹی میٹر حجم والے بڑے ماڈیول نے 29.40 فیصد پی سی ای حاصل کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کم روشنی کا بھی مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سیل کی مضبوطی بھی تجربے کا اہم حصہ رہی۔ سائنسدانوں نے پیروسکائٹ سولر سیل کو کئی تہوں والی حفاظتی تہہ فراہم کی۔ اس میں بیوٹائل ربڑ اور کور گلاس کا استعمال کیا گیا، جبکہ سب سے بیرونی حفاظتی تہہ شفاف ایپوکسی ریزن کی تھی۔ اس پیکیجنگ نے سیل کو پانی، دباؤ اور زنگ سے محفوظ رکھنے کا کام کیا۔ مصنوعی سمندری پانی میں 10 میٹر کی گہرائی پر روشنی کے درمیان 1,000 گھنٹے تک مسلسل ڈبوئے رکھنے کے بعد بھی اس ڈیوائس نے اپنی ابتدائی پی سی ای کا 99.58 فیصد برقرار رکھا۔ مزید حسابات کے مطابق، 25 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت پر 10 میٹر کی گہرائی جیسی مصنوعی روشنی میں سیل کی ٹی 80 لائف 48,094 گھنٹے اندازہ کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً ½5 سال بعد بھی سیل اپنی ابتدائی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 80 فیصد برقرار رکھ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی ٹیم نے جنوبی بحیرۂ چین میں ویئی ژو جزیرے کے قریب حقیقی سمندری پانی میں بھی تجربہ کیا۔ اس کے لیے پیروسکائٹ سولر سیل کو ایک زیر آب روبوٹ کے ساتھ جوڑا گیا۔ روبوٹ ان ماڈیولز کو 2، 6 اور 10 میٹر کی گہرائی تک لے گیا اور ان سے لیتھیم آئن بیٹریاں چارج کی گئیں۔ 2 گھنٹے کی روشنی کے دوران نظام نے 2 میٹر کی گہرائی پر 1,416 ایم ڈبلیو ایچ، 6میٹر پر 752 ایم ڈبلیو ایچ اور 10 میٹر پر 324 ایم ڈبلیو ایچ توانائی چارج کی۔ اس نظام سے ایل ای ڈی پینل بھی کامیابی سے روشن کیا گیا۔ یہ ٹیکنالوجی ایسے سمندری ماحول میں پیروسکائٹ کے استعمال کے امکانات بڑھاتی ہے، جہاں نمی اور پانی کے رابطے کی وجہ سے اسے روایتی طور پر مشکل سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سمندر کے اندر بڑھتی انسانی سرگرمیوں کے لیے بھی اس کے نئے استعمال کے امکانات سامنے آئے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال پانی کے اندر سینسر، ڈٹیکٹر، کیمرے، مواصلاتی نظام، زیر آب روبوٹ اور آبدوزوں میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ ان آلات کے لیے طویل عرصے تک توانائی فراہم کرنے والے ذریعہ کے طور پر کام کر سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔