
ویڈیو گریب
نئی دہلی میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹ چوری کے معاملے پر اپوزیشن کا احتجاج تیز ہو گیا ہے۔ انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ صدارتی بھون کی جانب سے جمعہ کی رات 8 بجے 10 رہنماؤں کو ملاقات کا وقت دیا گیا۔ راہل گاندھی کی قیادت میں وفد صدر سے ملاقات کے لیے روانہ ہوا، جبکہ دیگر اپوزیشن رہنما وجے چوک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔
راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا بلاک کے 10 اپوزیشن رہنما صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کے لیے صدارتی بھون کی جانب روانہ ہوئے۔ صدارتی بھون کی طرف سے وفد کو جمعہ کی رات 8 بجے کا وقت دیا گیا تھا۔ اپوزیشن رہنما ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بے ضابطگیوں، ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور انتخابی عمل میں شفافیت سے متعلق اپنے خدشات صدر کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس دوران رائے سینا ہلز کے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔
انڈیا بلاک کے متعدد اپوزیشن رہنما اور ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے وجے چوک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ مظاہرین نے ایک بڑا بینر اٹھا رکھا تھا، جس پر ’گیانیش کمار استعفیٰ دو‘ کا نعرہ درج تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران لوگوں کے ووٹ حذف کیے گئے اور انتخابی عمل میں شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کر چکی ہیں۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سید ناصر حسین نے کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تقریباً 300 اپوزیشن ارکان صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، صدارتی بھون کی جانب سے فی الحال صرف 10 رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ ناصر حسین نے کہا کہ ہر رکن پارلیمنٹ اپنے حلقے اور ریاست کی صورت حال کے ساتھ ایس آئی آر کے دوران سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی تفصیلات صدر کو پیش کرنا چاہتا ہے۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ارکان کو اپنا موقف رکھنے کا موقع دیا جائے۔
پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں انڈیا بلاک کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے گجرات، ہریانہ اور مہاراشٹر کے انتخابی نتائج پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں سامنے آنے والے نتائج کو دیکھ کر انہیں اب بھی حیرت ہوتی ہے کہ ایسا کیسے ہوا۔ راہل گاندھی کے مطابق، جب اپوزیشن کے سامنے شواہد آئے تو اسے معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں ووٹ چوری کے خلاف جدوجہد گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے اور اب یہ تحریک ملک بھر میں پھیل چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لیا گیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ پرتاپ گڑھی نے کہا کہ اپوزیشن اس جدوجہد کو جمہوری ستیہ گرہ کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں صدر سے ملاقات کا وقت مانگا گیا ہے تاکہ انتخابی عمل اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق شکایات ان کے سامنے رکھی جا سکیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔