
دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ 26 جنوری کے موقعہ پر نکلنے والی کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے سلسلہ میں اب تک 38 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جبکہ 84 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا، ‘’26 جنوری پر ہونے والے تشدد کی کوئی حمایت نہیں کر گا، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ سماج دشمن عناصر کی طرف سے کئے گئے ہنگامہ کی سبھی نے سختی سے مخالفت کی ہے۔ کسانوں کو چاہئے کہ وہ پر امن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کریں۔ انہوں نے 65 دن تک احتجاج کرتے ہوئے جو تحمل دکھایا وہ قابل تحسین ہے۔‘‘
اشوک گہلوت نے پوچھا، ’’ابھی تک جیوڈیشل انکوائری شروع کیوں نہیں کی گئی۔ کسانوں نے 70 دنوں تک احتجاج کیا لیکن ایس کچھ نہیں کیا۔ اس کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہئے۔‘‘
کل جماعتی میٹنگ کے دوران ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’وزیر زراعت نریندر تومر نے جو کسانوں سے کہا وہ میں میں دوہرانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا ہم کسی حل تک نہیں پہنچ سکے لیکن ہم آپ کو تجویز دے رہے ہیں آپ اس پر غور کریں۔ انہوں نے کسانوں سے کہا کہ وہ ان سے ایک فون کال کے فاصلہ پر ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے مزید کہا، ’’حکومت کی تجویز ابھی برقرار ہے۔ برائے کرم یہ پیغام اپنے حامیوں تک پہنچا دیں۔ قرارداد تک مکالمہ کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم سبھی کو قوم کے بارے میں سوچنا ہوگا۔‘‘
کسان رہنما بلبیر سنگھ راجیوال نے کہا کہ جہاں ہم بیٹھے ہیں حکومت نے وہاں انٹرنیٹ بند کردیا ہے، ہریانہ کے کئی اضلع میں بھی انٹرنیٹ بند کردیا گیا ہے۔ کئی بار پانی روک دیتے ہیں اور بجلی بند کردی جاتی ہے۔
کسانوں نے اپنا روزہ شروع کردیا ہے۔ ادھر، غازی پور بارڈر اور آس پاس کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔ اس سے قبل کسان رہنما درشن پال سنگھ نے سنگھو بارڈر پر انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے تاکہ ہماری بات لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔
زرعی قوانین کے خلاف کسان دہلی کی سرحدوں پر موجود ہیں۔ غازی پور اور سنگھو بارڈر پر تحریک تیز ہو رہی ہے۔ سردی کے موسم میں بھی کسانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غازی پور بارڈر پر راکیش ٹکیت کی اپیل صاف نظر آرہی ہے۔
دو مہینے سے زیادہ وقت سے احتجاج کر رہے کسان آج مہاتمہ گاندھی کی برسی کے موقع پر صبح نو بجے سےشام پانچ بجےتک روزہ رکھیں گےاور آج کے دن کو یوم ہم آہنگی کے طور پر منائیں گے۔ ادھر ایک مرتبہ پھر بڑی تعداد میں کسان غازی پور میں جمع ہوتے نظر آ رہے ہیں جس کی وجہ سےوہاں بھیڑ جمع ہونے لگی ہے۔
دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے راکیش ٹکیت سمیت نو کسان رہنماؤں کو پوچھ گچھ میں شامل ہونے کے لیے بلایا لیکن کوئی بھی تفتیش میں شامل نہیں ہوا ہے۔
پولیس کے ایک افسر نے کہا کہ یوم جمہوریہ کو دار الحکومت کے مختلف علاقوں میں ہوئے تشدد کے معاملے میں تفتیش میں پوچھ گچھ میں شامل ہونے کے لیے راکیش ٹکیٹ، پون کمار، راج کشور سنگھ، تجیندر سنگھ وِرک، جتیندر سنگھ جیتو، تریلوچن سنگھ، گرمکھ سنگھ، ہرپریت سنگھ اور جگتار سنگھ باجوا کو بلایا گیا لیکن کوئی بھی تفتیش میں شامل نہیں ہوا ہے۔
غور طلب ہے کہ کسان ٹریکٹر پریڈ کو پر امن ڈھنگ سے کروانے کی ذمہ داری لینے والے 37 کسان رہنماؤں کے خلاف دہلی پولیس نے مختلف دفعات کے تحت معاملے درج کیے ہیں جن میں مجرمانہ سازش، ڈکیتی، ڈکیتی کے دوران خطرناک ہتھیار کا استعمال اور قتل کی کوشش جیسی سنگین دفعات سمیت کل 13 دفعات لگائی گئی ہیں۔(یو این آئی)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 30 Jan 2021, 8:11 AM IST