
چنڈی گڑھ: ہریانہ پردیش کانگریس مرکزی حکومت کی طرف سے جاسوسی (پیگاسس پروجیکٹ) کے مبینہ اسکینڈل کے خلاف 22 جولائی کو پارٹی ہیڈکوارٹر سے راج بھون تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ ریاستی کانگریس کی صدر کماری شیلجا نے آج یہاں پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ یہ اشتعال مارچ صبح 10 بجے پارٹی کے ریاستی صدر دفتر سے شروع ہوگا اور راج بھون تک جائے گا۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر بھی جاسوسی کرنے اور ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس اشتعال مارچ میں محترمہ شیلجا کے علاوہ پارٹی کے ریاستی امور کے انچارج وویک بنسل، پارٹی کے ایم ایل اے اور سینئر رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔
امریکہ کے سنٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ نے اپنی ایک اسٹڈی میں ہندوستان میں کورونا کی وجہ سے 49 لاکھ تک اموات ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ اسٹڈی نے اسے آزادی اور تقسیم ہند کے بعد سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔
کیرالہ میں 24 اور 25 جولائی کو مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس دوران 12 اور 13 جون 2021 کو جاری کردہ ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔ وزارت صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پورے کیرالہ میں 3 لاکھ کورونا ٹیسٹ کے ہدف کے ساتھ 23 جولائی کو بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ مہم چلائی۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج مرکز کی مودی حکومت کو پرزور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک سے بی جے پی کے خاتمہ کا عزم ظاہر کیا۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہر ریاست میں اس وقت تک ’کھیلا‘ ہوگا جب تک بی جے پی ملک سے ختم نہیں ہو جاتی۔ ہم لوگ 16 اگست کو ’کھیلا دیوس‘ منائیں گے۔ غریب بچوں کو ہم فٹ بال دیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہماری آزادی اس وقت خطرے میں ہے۔ بی جے پی کو اپنے ہی وزراء پر اعتماد نہیں ہے اور وہ ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 21 Jul 2021, 3:40 PM IST