
سوشل میڈیا پر اکثر آپ کو بہار کی ایسی تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں، جن میں ریاست کو پسماندہ اور ناخواندہ دکھانے کی جھوٹی کوشش بار بار کی جاتی ہے۔ منفی یا جھوٹے پروپیگنڈوں کے درمیان بہار کی زمینی حقیقت سوشل میڈیا پر کیے جانے والے پروپیگنڈے سے کہیں الگ ہے۔ اس کی مثال اکثر عالمی سطح پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ تازہ معاملے میں بہار میں یونیسیف انڈیا کی فیلڈ آفس کی چیف کے طور پر کام کر رہیں ڈاکٹر مونیکا اولیڈزکا نیلسن نے راجدھانی پٹنہ کا ایک شاندار تجربہ شیئر کیا۔
خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ پر شائع خبر کے مطابق ڈاکٹر مونیکا نے لنکڈان پوسٹ میں لکھا کہ ’’ایک ہفتہ قبل میں یونیسیف انڈیا کے ساتھ اپنا کام شروع کرنے کے لیے بہار کے پٹنہ پہنچی۔ رہنے کی جگہ ڈھونڈتے ہوئے، میں نے لیمن ٹری ہوٹل میں چیک ان کیا۔ میرے پہنچنے کی دوپہر کو ایک چھوٹی لیکن اثر دار بات نے میری توجہ کھینچی، میرا استقبال ایک اسٹاف ممبر نے کیا جسے سننے میں دشواری تھی۔ اس نے ایک بیج پہنا ہوا تھا، جس میں لکھا تھا کہ اگر میں اپنی بات لکھ لوں تو انہیں مدد کرنے میں خوشی ہوگی۔ مجھے یہ بات سوچنے پر مجبور کرنے والی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی لگی۔‘‘
ڈاکٹر مونیکا نے مزید لکھا کہ ’’اگلی صبح ناشتے کے وقت، میں نے دیکھا کہ 2 نوجوان ویٹر اشاروں کی زبان (سائن لینگویج) میں بات کر رہے تھے۔ متجسس اور متاثر ہو کر، میں نے بعد میں ریسیپشنسٹ کے سامنے اس بات کی تعریف کی جو میں نے دیکھی تھی۔ میں نے کہا کہ میں نے یورپ کے ہوٹلوں میں، اور دنیا میں کہیں اور بھی، ایسی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی سوچ کبھی نہیں دیکھی تھی۔‘‘
ڈاکٹر مونیکا مزید لکھتی ہیں کہ ریسیپشنسٹ نے فخر سے جواب دیا کہ ’’میڈم، لیمن ٹری میں ہماری پالیسی ہے کہ ہم معذوروں کو کام پر رکھیں۔‘‘ انہوں نے آخر میں لکھا کہ ’’میں سچ میں حیران تھی۔ ایسے لمحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل شمولیت کیسی ہوتی ہے۔ یہ صرف بیداری نہیں بلکہ عملی اقدام کا نام ہے۔ معذور افراد کو مواقع فراہم کرنا محض حمایت کا اظہار نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے جہاں ہر شخص عزت، وقار اور خوداعتمادی کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بہار کی یہ ستائش پہلی بار نہیں ہوئی، لیکن سوشل میڈیا پر بہار کو ایک غیر ترقی یافتہ، ناخواندہ، پسماندہ اور مذاق کا مہرہ دکھانے کی کوشش کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ حقیقت کہیں پیچھے چھوٹ جاتی ہے۔
ڈاکٹر مونیکا اولیڈزکا نیلسن اقوام متحدہ کی ایک سینئر انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ پروفیشنل ہیں۔ فی الحال وہ بہار میں یونیسیف انڈیا کے فیلڈ آفس کی سربراہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس عہدے کی ذمہ داری اپریل 2026 میں سنبھالی تھی۔ یونیسیف کے ساتھ ان کا کیریئر ایک دہائی سے زیادہ کا رہا ہے، جس میں انہوں نے دنیا بھر میں فیلڈ آفس، اسٹریٹجک پروگرامنگ اور ایمرجنسی رسپانس کو مینیج کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔