
ملک بھر کی نگاہیں اس وقت غازی پور بارڈر پر مرکوز ہیں جہاں پولیس اور انتظامہ نے بڑے ایکشن کی تیاری کر لی ہے۔ یہاں بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات ہے اور علاقہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ مظاہرین کو جائے احتجاج سے لے جانے کے لئے بسیں لگا دی گئی ہیں۔
وہیں کسان لیڈر راکیش ٹکیت بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاؤں کے لوگ جب پانی لے کر آئیں گے تبھی پانی پیوں گا۔
دریں اثنا، ذرائع کے حوالہ سے اطلاع ملی ہے کہ غازی پور میں دھرنے کے مقام پر آر ایس ایس کے لوگ بھی پہنچے ہوئے ہیں جو کسانوں کو یہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ پر امن مظاہرہ کر رہے ہیں اور انہیں یہاں سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔
غازی پور بارڈر پر زبردست ہلچل کے درمیان کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے بڑا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ تحریک ختم نہیں ہوگی، اگر قوانین واپس نہیں ہوں گے تو وہ خود کشی کر لیں گے۔
غازی پور بارڈر پر بھاری تعداد میں پولیس فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ دھرنے کے مقام پر انتظامیہ کی ٹیم بھی موجود ہے۔ کچھ مقامی لوگ بھی یہاں موجود ہیں جو سڑک کو خالی کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، راکیش ٹکیت نے کہا کہ وہ سرینڈر نہیں کریں گے اور ان کا دھرنا جاری رہے گا۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ لال قلعہ کے واقعہ کے لئے جو بھی ذمہ دار ہیں ان کی کال ڈیٹیل نکالی جائے۔ راکیش ٹکیت نے دعوی کیا کہ یوپی پولیس ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی پر امن دھرنے کو جائز ٹھہرایا ہے۔
غازی آباد انتظامیہ نے غازی پور بارڈر پر دھرنا دے رہے کسانوں کو آج رات تک اس مقام کو خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ دھرنے کے مقام کو خالی کرانے کے لئے تیار ہیں۔ قبل ازیں، اطلاع موصول ہوئی تھی کہ گزشتہ شب کسانوں کے خیموں کی بجلی کاٹ دی گئی تھی جس کے بعد انہیں اندھیرے میں رات گزارنا پڑی تھی۔
دریں اثنا یوپی کے اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر نے کہا، ’’26 جنوری کو پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے بعد کچھ کسان تنظیموں نے مرضی سے سے چلا بارڈر دلت پریرنا استھل سے تحریک واپس لے لی۔ باغپت میں لوگوں نے سمجھانے کے بعد انہوں نے رات میں دھرنا ختم کر دیا۔ یو پی گیٹ پر ابھی کچھ لوگ ہیں، ان کی تعداد کافی کم ہوئی ہے۔‘‘
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ اگر حکومت اس تحریک کو جاری رکھنے دینا نہیں چاہتی تو انہیں یہاں سے گرفتار کر لیا جائے۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ لفظ تشدد ان کی ڈکشنری میں ہی نہیں ہے، لال قلعہ میں جو کچھ بھی ہوا اسے تحریک سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنی چال میں کامیاب رہی۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ یہ نظریات کی لڑائی ہے، نظریاتی انقلاب ہے، نظریات سے ہی ختم ہوگی، لاٹھی-ڈنڈے سے ختم نہیں ہوگی۔
کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا کہ "ہم 16 سیاسی جماعتوں کی جانب سے بیان جاری کر رہے ہیں کہ کانگریس سمیت سبھی 16 سیاسی جماعتیں کل پارلیمنٹ میں صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کریں گی، اس فیصلے کی اصل وجہ یہ ہے کہ کسان بل زبردستی ایوان میں منظور کیا گیا۔
ممبئی : دہلی میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی میں تشدد مہاراشٹرا سماج وادی پارٹی کے لیڑر ابوعاصم کی ممبئی میں اشتعال انگیز تقریر کا نتیجہ ہے، یہ الزام آج یہاں بی جے پی نے عائد کیا ہے اور اس کی تفشیش کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تعلق سے ریاستی بی جے پی کے لیڈر و ایم ایل اے اتل بھٹکھلکر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک مکتوب روانہ کر کے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رہنما ابو عاصم اعظمی کے خلاف دہلی میں 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہونے والے تشدد کے سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی رہنما نے الزام لگایا کہ 25 جنوری کو آزاد میدان میں کسانوں کے احتجاج کے دوران اعظمی نے اشتعال انگیز تقریر کی اور اگلے ہی دن قومی دارالحکومت میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔
دہلی پولیس نے یوگیندر یادو، بلدیو سنگھ سرسا، بلبیر ایس راجیوال سمیت کم سے کم 20 کسان رہنماؤں کو نوٹس جاری کیے ہیں، ان کسان رہنماؤں پر ٹریکٹر ریلی سے متعلق پولیس سے معاہدہ توڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان رہنماؤں سے 3 دن میں جواب دینے کو کہا گیا ہے۔
کانگریس کےترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے بڑوت میں کسان مظاہرین پر پولیس کی لاٹھیوں کے خلاف اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ’’پولیس کی لاٹھیاں، دمن، مقدمے، ظلم، بس اب ہرروز یہی ہے، آدتیہ ناتھ حکومت۔ کبھی ملازمین، کبھی مہاجر مزدور، کبھی دلت اور پسماندہ طبقہ، کبھی شاعر اور ادیب، کبھی حزب اختلاف کے رہنما، کبھی کسان... ان داتا پر لاٹھیاں مہنگی پڑیں گی۔‘‘
نیوز 18پر شائع خبر کے مطابق دہلی کے غازی پور بارڈر پر سرگرمیاں اچانک بڑھ گئی ہیں۔ خبر کے مطابق کل آدھی رات کو وہاں کی بجلی کاٹ دی گئی ہے اور بڑی تعداد میں حفاظتی دستہ تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ کسان پریڈ میں ہوئے تشدد کے بعد سے پولیس شر پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرتی نظر آ رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 28 Jan 2021, 8:11 AM IST