
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا، ’’کسانوں کی جدوجہد کے 100 دن ہو چکے، حل اخذ ہونے تک آخری سانس تک جدوجہد کریں گے۔ تمام کسان بھائیوں کا دلی شکریہ، جنہوں نے اپنے کنبہ سے زیادہ قوم کو بالاتار مانا اور اس تحریک میں پورا تعاون دیا۔‘‘
پولیس انتظامیہ کی جانب سے کنڈلی ایکسپریس وے جانے والے ڈاسنہ ٹول پر جانے والے راستے کو بند کر دیا ہے۔ اس کے باوجود کسانوں کا ایک دستہ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔
بھارتیہ کسان یونین نے کے قومی نائب صدر راجیش ٹکیٹ نے آج کنڈلی -مانیسسر - پلوال ایکسپریس وے کو جام کرنے پر کہا کہ "ہمارے پاس سوئی ہوئی حکومت کو بیدار کرنے کے لئے یہی ایک راستہ بچا ہے، دہلی کے اطراف کی سرحدوں کو صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک جام کریں گے۔ یہ پرامن مظاہرہ ہوگا۔ "
کسان تحریک کے آج سو دن مکمل ہو رہے ہیں۔ 100 دن مکمل ہونے کے موقع پر کسان آج اپنے گھروں پر کالے جھنڈے لگاکر، ہاتھوں پر کالی پٹی باندھکر اپنا احتجاج درج کرائیں گے۔ اس موقع پر کنڈلی، مانیسر اور پلول (کےایم پی) ایکسپریس وے پر پانچ گھنٹے کے لئے چکا جام بھی کریں گے۔
کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف 26 نومبر سے دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ کئی دور کی حکومت کے ساتھ بات چیت بھی ہوئی، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ کسان ان قوانین کو واپس کرانا چاہتی ہے جبکہ حکومت ایسا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 06 Mar 2021, 9:11 AM IST