خبریں

ایران پر امریکی حملہ رکتے ہی خام تیل کی قیمت میں 6 فیصد کی کمی، کئی ممالک نے لی راحت کی سانس

خلیجی ممالک کا خام تیل 91 ڈالر کی رینج میں کاروبار کر رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 84 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایندھن</p></div>

ایندھن

 

امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے روکے جانے کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی راحت ملی ہے۔ پیر کو بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 6 فیصد کی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے خلیجی ممالک کا خام تیل 91 ڈالر کی رینج میں کاروبار کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی خام تیل کی قیمت 84 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کی جانب سے بمباری رکنے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس سے کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی بے روک ٹوک آمد و رفت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 3 ہفتوں سے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی دیکھی جا رہی تھی، لیکن پیر کی صبح امریکی اور خلیجی ممالک کا خام تیل ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ امریکی خام تیل کی قیمت 5.16 ڈالر یعنی 5.78 فیصد فی بیرل کی گراوٹ کے ساتھ 84.15 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کرتی ہوئی دکھائی دی۔ وہیں دوسری جانب خلیجی ممالک کا خام تیل 5.36 ڈالر یعنی 5.54 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 91.42 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کر رہا تھا۔

خاص بات یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری دن خام تیل کی قیمتیں 2026 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کرتی ہوئی دکھائی دی تھیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکہ اور ایران کی کشیدگی بحیرۂ احمر تک پہنچ گئی تھی، جس سے دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب سے ایشیا کو ہونے والی برآمدات میں رکاوٹ آئی تھی (یہ برآمدات آبنائے باب المندب کے راستے ہوتی ہیں)۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائک والٹز نے ’فاکس نیوز سنڈے‘ اور دیگر امریکی میڈیا کو بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کے لیے مزید وقت دینے کی خاطر امریکی حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی جی مارکیٹس کے تجزیہ کار ٹونی سِکامور نے ایک نوٹ میں کہا کہ امیدیں بڑھ رہی ہیں کہ ایک حقیقی سفارتی راستہ کھل سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق کچھ مزید وضاحت کے ساتھ 14 نکاتی ایم او یو (مفاہمت کی یادداشت) کی جانب لوٹنا ایک ٹھوس ابتدائی قدم ہوگا۔ حملے رکنے کے باوجود کیپلر کے شپنگ ڈاٹا سے معلوم ہوا کہ ویک اینڈ کے دوران روزانہ 10 سے کم کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

علاوہ ازیں اتوار کو آبنائے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کمی آئی، کیونکہ یمنی حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحل پر سعودی تیل کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ تاہم ایک تیسرا چینی سپر ٹینکر آبنائے باب المندب سے گزر گیا۔ ایم ایس ٹی مارکی کے تجزیہ کار ساؤل کیوونک نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے ہونے والی آمد و رفت میں کوئی بھی بہتری سست اور جزوی رہنے کا امکان ہے، کیونکہ کئی شپنگ کمپنیاں اب بھی محتاط ہیں اور سمندر میں مزید خالی جہاز لانے سے پہلے اپنی سلامتی کے حوالے سے زیادہ اعتماد چاہیں گی۔

بہرحال، ہندوستان میں 25 مئی کے بعد سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم بنی ہوئی ہیں۔ اس وقت سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے پٹرول کی قیمتوں میں 2.61 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2.71 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔ دہلی میں پٹرول کی قیمت فی الوقت 102.12 روپے بنی ہوئی ہے، جبکہ ڈیزل 95.20 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ ممبئی میں بھی پٹرول کی قیمتیں 110 روپے کی سطح سے زیادہ بنی ہوئی ہیں۔ یہاں پٹرول 111.21 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 97.83 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ بنگلورو، حیدرآباد اور کولکاتا جیسے دیگر بڑے شہروں میں بھی پٹرول کی قیمتیں 110 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہیں۔ ان شہروں میں ڈیزل کی قیمتیں 100 روپے سے کم ہیں، سوائے حیدرآباد اور چنئی کے۔ حیدرآباد میں ڈیزل کی قیمت 103.82 روپے اور چنئی میں 100.92 روپے ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔