
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما ڈاکٹر نریش کمار نے لوک سبھا میں پیر کو پیش عام بجٹ 2021-22 کو کسانوں کے لئے "اونٹ کے منہ میں زیرہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں کسانوں کو کوئی راحت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی کوئی بات نہیں کی جارہی ہے اور کسان غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے جبکہ سرمایہ داروں کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے۔ بجٹ میں کہا گیا ہے کہ منڈیاں انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کی بات بجٹ میں کہی گئی ہے ، لیکن ملک میں کل سات ہزار منڈیاں ہیں جبکہ ملک میں 42 ہزار منڈیوں کی ضرورت ہے ۔ بہتر ہوتا کہ اس میں نئی منڈیاں بنانے کا انتظام ہوتا۔
نئی دہلی: سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے پیر کو پیش کیے گئے عام بجٹ میں بے روزگاروں کی طرف توجہ نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ ایس پی کے صدر اکھلیش یادو نے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کی خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ اس میں احتجاج کرنے والے کسانوں کے لئے کیا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہمیشہ کہتی ہے کہ وہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرے گی، لیکن کیا اس بجٹ سے کسانوں کی آمدنی دگنی ہوگی۔ مسٹر یادو نے کہا کہ جو نوجوانوں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور مختلف شعبوں میں اپنا کیریئر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کیا ان کے لئے اس بجٹ میں کیا گیا ہے۔ کیا ان کے لئے روزگارکا کوئی انتظام کیا گیا ہے۔
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے تازہ بجٹ میں حکومت پر غریب اور عام آدمی کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں حکومت نے ملک کی دولت کو اپنے سرمایہ دار دوستوں میں تقسیم کرنے کا مکمل انتظام کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ حکومت ملک کے عام لوگوں کو خوش دیکھنا نہیں چاہتی ہے، لہٰذا ان کے مفاد میں کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صرف عوامی املاک کو نجی ہاتھوں میں فروخت کرنے کے منصوبے پر زور دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں کیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے ’’مودی حکومت لوگوں کے ہاتھ میں نقد رقم دینا بھول گئی۔ اس کا منصوبہ ہندوستان کی دولت کو اپنے چند سرمایہ دار دوستوں میں بانٹنے کا ہے۔‘‘
عآپ لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ عام بجٹ کو ’ملک کو بیچنے والا بجٹ‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے بجٹ کی تنقید کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’آخر یہ ملک کس کا ہے؟ 130 کروڑ لوگوں کو یا مودی جی کے 4 صنعت کار دوستوں کا؟‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’سپوت (اچھا بیٹا) سمپتی (ملکیت) بناتا ہے، کپوت (برا بیٹا) سمپتی بیچتا ہے۔ آج کا بجٹ ملک کو بیچنے کا بجٹ ہے۔‘‘ ایک دیگر ٹوئٹ میں سنجے سنگھ نے لکھا ہے کہ آج مودی جی نے بجٹ پر نیا نعرہ بنایا۔ ’’یہ دیش نہیں بچنے دوں گا، یہ دیش نہیں بچنے دوں گا۔‘‘
مرکزی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ عام بجٹ کو کانگریس نے کسان اور زراعت مخالف قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’زراعت اور کسان کو نظر انداز کیا جانا جاری ہے۔ زراعت کا بجٹ 6 فیصد گھٹایا۔ پی ایم کسان سمّان کا بجٹ 13 فیصد گھٹایا۔ مارکیٹ انٹروینشن اسکیم کا بجٹ 25 فیصد گھٹایا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’نہ سیاہ قوانین ختم۔ نہ زراعت پر جی ایس ٹی ختم۔ نہ ڈیزل کی قیمتیں کم‘‘
مرکز کی مودی حکومت نے عام بجٹ میں پٹرول پر 2.50 روپے اور ڈیزل پر 4 روپئے فی لیٹر زرعی بنیادی ڈھانچہ اور ترقی سیس (نیو ایگری انفرا ڈیولپمنٹ سیس) کی تجویز رکھی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ فیصلہ 2 فروری 2021 سے نافذ العمل ہوگا۔
مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے آج بجٹ تقریر کے دوران واضح کر دیا کہ اس مرتبہ انکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے والی ہے۔ متوسط طبقہ انکم ٹیکس سلیب میں تبدیلی اور مزید کچھ سہولت مہیا کیے جانے کی امید کر رہا تھا، لیکن انھیں تازہ بجٹ سے جھٹکا لگا ہے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اپنی بجٹ سفارشات میں کہا ہے کہ75 سال سے زیادہ عمرکے لوگوں کو انکم ٹیکس جمع نہیں کرنا ہوگا۔
ایل آئی سی کے تعلق سے وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ سفارشات میں کہا ہے کہ حکومت جلد ایل آئی سی کا آئی پی او لائے گی۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اپنی بجٹ سفارشات میں واضح کر دیا ہے کہ حکومت بیما کے شعبہ میں غیر ملکی کمپنیوں کو بڑھاودےگی۔ اس کا سیدھا اثر قومی بیما کمپنیوں پر پڑے گا۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اپنے بجٹ میں طبی بجٹ کے اضافہ کی سفارش کی ہے ۔
کپڑوں کی صنعت کو فروغ دیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکسٹائل صنعت کو فروغ دینے کے لئے ملک میں میگا ٹیکسٹائل پارک بنائے گی اور ایکسپورٹ برھایا جائے گا۔
پرانی گاڑیوں کو اسکریپ کیا جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سفارش کرت ہے کہ ایندھن کی بچت اور ماحول کی بہتری کےلئے پرانی گاڑیوں کو اسکریپ کیا جائے گا۔
اب سے تھوڑی دیر میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن بجٹ سفارشات پیش کریں گی ۔ اس سے پہلے کانگریس کےسابق صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے ان چیزوں کاذکر کیا ہے کہ جو بجٹ میں ہونی چاہیئں ۔ انہوں نے ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ ’’بجٹ 2021 کے لئے لازمی چیزیں ۔ روزگار پیدا کرنے کے لئے چھوٹی گھریلو صنعت ، کسان اور مزدور کی مدد کریں۔ لوگوں کی زندگی بچانے کے لئے طبی شعبہ کے بجٹ میں اضافہ کریں۔ سرحدوں کی حفاظت کےلئے دفائی اخراجات میں اضافہ کریں۔‘‘
اب سے تھوڑی دیر بعد وزیر خزانہ نرملا سیتارمن سال 2021-2022 کے لئے بجٹ سفارشات پیش کرنے والی ہیں لیکن اس سے پہلے اسٹاک مارکیٹ سے خبریں آ رہی ہے کہ سینسیکس چار سو پوائنٹ اوپر چلا گیا ہے ۔ اس اچھال کو اچھی خبر کی طرح دیکھا جا رہا ہے۔
اس دہائی کا پہلا بجٹ اپنی نوعیت کا منفرد بجٹ ہوگا کیونکہ یہ ڈجیٹل بجٹ ہو گا جس کو آپ کاغذ پر نہیں دیکھیں گے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ سفارشات کو لےکر صدر جمہوریہ سےملاقات کی جس کے بعد وہ کابینہ کی میٹنگ کے لئے روانہ ہو گئی ہیں ۔پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنےسے پہلے کابینہ اس کومنظور کر ےگی۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کوروناوبا کےاس دور میں بجٹ سفارشات پیش کریں گی لیکن اس کاایک خاص پہلو یہ بھی ہوگا کہ ہندوستان میں پہلی مرتبہ وزیر خزانہ کے پاس نہ کوئی فائل ہوگی اور نہ کوئی کاغذ۔ کورونا وبا کی وجہ سے بجٹ سفارشات چھپوائی نہیں گئی ہیں اور سب کو یہ آن لائن دستیاب ہوں گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 01 Feb 2021, 9:17 AM IST