قومی خبریں

’میرا سر قلم کر دو، پھر بھی میں بی جے پی میں نہیں جاؤں گی‘، ٹی ایم سی چھوڑنے کی افواہوں پر مہوا موئترا کا سخت رد عمل

ٹی ایم سی میں پڑنے والے شگاف پر مہوا موئترا نے کہا کہ اسے نہ تو پارٹی کی ٹوٹ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی زوال۔ یہ وہی پارٹی ہے جسے ایک ماہ قبل مغربی بنگال میں 41 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>مہوا موئترا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

مہوا موئترا، تصویر آئی اے این ایس

 

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ ممتا بنرجی، ابھشیک بنرجی، کلیان بنرجی اور مہوا موئترا جیسے صرف چند بڑے لیڈران ہی پارٹی میں باقی رہ گئے ہیں۔ سایونی گھوش، جو بی جے پی کی سخت مخالف اور ممتا بنرجی کی انتہائی قریبی لیڈر سمجھی جاتی تھیں، انہوں نے بھی ٹی ایم سی کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اب سوشل میڈیا پر یہ خبر گشت کر رہی ہے کہ مہوا موئترا بھی بی جے پی میں شامل ہونے والی ہیں۔ اس افواہ پر مہوا موئترا نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میرا سر قلم کر دو، پھر بھی میں بی جے پی میں نہیں جاؤں گی۔‘‘

ٹی ایم سی میں پڑنے والے شگاف پر مہوا موئترا نے کہا کہ اسے نہ تو پارٹی کی ٹوٹ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی زوال۔ یہ وہی پارٹی ہے جسے ایک ماہ قبل مغربی بنگال میں 41 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ پارٹی کو 2.6 کروڑ ووٹ ملے تھے، جو ڈنمارک کی نصف آبادی کے برابر ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کے بعد سے کتنے لوگ پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں؟ 20 اراکین پارلیمنٹ، 65 اراکین اسمبلی۔ فرض کریں 10 میئر اور تقریباً 100 دیگر افراد، یعنی مجموعی طور پر تقریباً 200 سے 250 لوگوں نے استعفیٰ دیا ہے یا پارٹی چھوڑی ہے۔

مہوا موئترا نے کہا کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹی ایم سی چھوڑنے والے یا تو پیسے کے لالچ میں یا دباؤ اور خوف کے باعث بی جے پی میں گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس پارٹی کو 2.6 کروڑ ووٹ ملے ہوں، وہ صرف اس لیے نہیں بکھر جاتی کہ 200 سے 250 افراد اپنی جان بچانے کے لیے اسے چھوڑ دیں۔ میں اسے پارٹی کا زوال نہیں کہوں گی، خاص طور پر ممتا بنرجی کی اس پارٹی کا، جو ان کی کرشمائی قیادت اور پارٹی کارکنوں کے خون، پسینے و سخت محنت سے بنی ہے۔ یہ پارٹی کبھی بھی درمیانی درجے کے لیڈران کے سہارے قائم نہیں ہوئی تھی۔

مہوا موئترا کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مجھے کتنے ہی پیسے دے کر نہیں خرید سکتا۔ آپ میرا سر قلم کر دیں، میں قربانی دے دوں گی، لیکن بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گی۔ یا تو انسان اصولوں پر قائم رہتا ہے یا پھر بک جاتا ہے۔ بی جے پی ہندوؤں کی بات کرتی ہے، لیکن آج انہی کے رام مندر کو لوٹ کر عوام کے جذبات سے کھیلا گیا ہے۔ مہوا موئترا نے یہاں تک کہا کہ جو لوگ ٹی ایم سی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ بنے اور بعد میں پارٹی چھوڑ گئے، آج وہ اس قابل بھی نہیں رہے کہ اپنے ہی خاندان کے ووٹ حاصل کر سکیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔