قومی خبریں

مزدوروں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنے والوں نے اپنی شناخت کپڑوں سے کرا دی: ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مزدوروں، بے بسوں، محتاجوں، لاک ڈاؤن کے شکار متاثرین کی مدد کرنے والے لوگ کپڑوں سے پہنچانے جارہے ہیں

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز 

نئی د ہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے ایک بارپھر مسلمانان ہند سے یہ اپیل کی ہے کہ ملک میں کورنا وائرس جیسی مہلک بیماری پھیلنے کے بعد پیدا ہوئی صورت حال میں جمعیۃ علماء ہند کو چندہ نہ دے کر مسلمان پریشان حال لوگوں کی مدداور مدارس کی ا مداد کریں، کیونکہ ملک انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مدد اور امن و انصاف کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST

مولانا مدنی نے جاری ایک بیان میں کہا کہ مزدوروں، بے بسوں، محتاجوں، لاک ڈاؤن کے شکار متاثرین کی مدد کرنے والے لوگ کپڑوں سے پہنچانے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جاری پرآشوب حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست اور متعصب میڈیا کے جھانسے میں نہ آکر ملک کے عوام ہندو، مسلمان یا سکھ، عیسائی نہیں بلکہ ایک ہندوستانی کے طور پر متحد ہوکر کورونا وائرس سے مقابلہ کرتے ہوئے خود کو ملک کی ترقی کے لیے وقف کردیں۔ انھوں نے اس بات پرگہرے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے جاری ملک گیر لاک ڈاؤن میں پریشان حال لوگوں اور مزدوروں کی تکلیف کے دوران بھی ملک کا میڈیا اور کچھ سیاست داں دونوں ملک میں نفرت کا زہر گھول رہے ہیں جس کا متعدد جگہ اثر بھی نظر آیا۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST

ملک کی ہزار سالہ گنگا جمنی تہذیب کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس کی وجہ سے ملک میں نفرت کا زہر کم پھیلا اورعام لوگوں کے درمیان وہ اثر نہیں ہوا جس کی فرقہ پرست طاقتیں اور کچھ میڈیا امید کررہی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کے نام پر اکثر الیکٹرانک میڈیا اور کچھ سیاست دانوں نے ملک بھر میں زہر گھولنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے اور ملک میں پریشان حال مزدوروں کے بحران نے ملک اور قوم کو متحد کردیا اور اس طرح فرقہ پرست ناکام ہوگئے اورکورونانے بتادیا ہم سب ایک ہیں اور کوروناوائرس نے انسان کی انسانیت زندہ کرنے کا کام بھی کیا ہے۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST

مولانا مدنی نے کہاکہ فرقہ پرست عناصر اور میڈیا کورونا اوردیگر نام سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاکر صرف مسلمانوں کا نقصان نہیں کر رہے ہیں بلکہ ملک اور قوم کا بھی نقصان کر رہے ہیں اور ایسا کرنے والے لوگ ملک کے غدار تو ہوسکتے ہیں لیکن ملک کے وفادار قطعی نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے ایک بڑے طبقہ کو پریشان یا نظر انداز کرکے یا اقتصادی،سیاسی، سماجی اور تعلیمی نقصان پہنچاکر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اس لئے ایسے میڈیا اور سیاست دانوں پر لگام لگایا جانا نہایت ضروری ہے ورنہ بیرون ملک میں اس سے ملک کی بدنامی تو ہوگی ہی، ملک بھی کھوکھلا ہوجائے گا، لیکن افسوس کہ حکومت خاموش رہ کر جیسے اس کی حمایت کررہی ہے۔مولانا مدنی نے خاص طور پر جمعیۃ علماء ہند کے تمام ممبروں سے ایک خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ رمضان کے مبارک مہینے میں جمعیۃ علماء ہند کو چندہ نہ دے کر بلا لحاظ مذہب وملت پریشان حال لوگوں اور مدارس اسلامیہ خاص طور پر چھوٹے چھوٹے مدارس کو چندہ دیں۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST

مولانا نے ایک سروے کے بعد اس کے حوالے سے کہاکہ پورے ملک میں جمعیۃ علماء ہند کی اپیل پر جس طرح مسلم تنظیمیں اور خاص طور پر جمعیۃ علماء ہند کے ورکرز نے غریبوں، محتاجوں، بیواؤں اور پریشان حال مزدوروں کے لئے کام کیا ہے وہ ایک ریکارڈ ہے اور ان کی شناخت کپڑوں سے ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمعیۃ علماء ہند مختلف ریاستوں کے پریشان حال مزدوروں کو وطن واپس بھیجنے کے لیے کرایہ کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان پورے ملک میں کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کر رہی ہے۔ یہ سلسلہ لاک ڈاؤن سے شروع ہوکر اب تک الحمد للہ جاری ہے۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST

انہوں نے کہا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں مسلمان وہی کررہے ہیں جو انہیں کرنا چاہئے اس کا حکم اسلام نے بھی دیا ہے انسانیت کی خدمت ایک بہت بڑافریضہ ہے جو اس ملک کامسلمان روزے کے دنوں میں بھی بھوک اور پیاس کا احساس نہ کرتے ہوئے اداکررہا ہے یہ سب ملک کا میڈیا نہیں دکھا رہا ہے لیکن بعض الیکٹرانک چینل اسے دکھارہے سوشل میڈیا پر اس کی تصویریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ہمارا ملک صدیوں سے کثرت میں وحدت کی مثال رہا ہے، مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور ایک دوسرے کا احترام اس کی شناخت رہی ہے اور یہی شناخت ملک کے آئین کی روح ہے، مگر افسوس کہ ایک طرف جہاں آئین و قانون کی بالادستی کو پامال کیا جارہا ہے وہیں دوسری طرف کچھ فرقہ پرست اور متعصب میڈیا مذہبی شدت پسندی کو بڑھاوا دے کر قومی یکجہتی، رواداری، مساوات اور ملک کے بھائی چارے کو نیست و نابود کردینے کی سازشیں رچ رہا ہے۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی صدیوں پرانی تاریخ شاہد ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے ماننے والے شروع سے امن اور محبت کے ساتھ گاؤں در گاؤں رہتے آئے ہیں۔ اس لیے میں اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ ملک کسی ایک خاص مذہب اور مخصوص نظریہ کی حکمرانی پر نہیں چل سکتا بلکہ مذہبی غیرجانب داری، امن اور سیکولرزم کی راہ پر چل کر ہی یہ ملک ترقی کرسکتا ہے۔ انھوں نے انتباہ دیا کہ اگر ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ختم ہوئی اور مذہبی ہم آہنگی کا تانابانا ٹوٹ گیا تو یہ بات ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST

مولانا مدنی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے اغراض و مقاصد کی چوتھی دفعہ بین المذاہب کام کرنے پر زور دیتی ہے۔ جمعیۃ کا یہ مشن آج کے حالات میں اور بھی ضروری ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ہمارا ملک ترقی کی جن بلندیوں پر ہے، یہاں تک اسے پہنچانے کے لیے ملک کے ہر شہری نے اپنا تعاون دیا ہے۔ اس لیے اگر مذہب کی بنیاد پر کسی خاص طبقہ کی قربانیوں اور ان کی خدمات کو پس پشت ڈال کر ملک کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کردینے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے کسی قوم یا فرد واحد کا نقصان نہیں بلکہ ملک کا نقصان ہے۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 22 May 2020, 5:11 PM IST