قومی خبریں

’سرکاری عمارتوں میں اب بھی چینی سی سی ٹی وی کیمرے کیوں نصب ہیں؟‘، راہل گاندھی کا حکومت سے تلخ سوال

راہل گاندھی نے ’فیس بک‘ پر لکھا کہ ’’حکومت نے حال ہی میں چینی سی سی ٹی وی کیمروں کے عوامی استعمال پر پابندی عائد کی تھی، لیکن سرکاری عمارتوں کے اندر چینی کیمرے اب بھی لگے ہوئے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p> راہل گاندھی، تصویر بشکریہ&nbsp;@INCIndia</p></div>

راہل گاندھی، تصویر بشکریہ @INCIndia

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سرکاری عمارتوں میں چینی سی سی ٹی وی کیمروں کے استعمال پر حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ ساتھ ہی مودی حکومت سے کئی تلخ سوال بھی پوچھے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر لکھا کہ ’’حکومت نے حال ہی میں چینی سی سی ٹی وی کیمروں کے عوامی استعمال پر پابندی عائد کی تھی، لیکن سرکاری عمارتوں کے اندر چینی کیمرے اب بھی لگے ہوئے ہیں۔ ممنوعہ چینی ایپس بدلے ہوئے ناموں کے ساتھ پھر سے سامنے آ رہے ہیں۔ غیر ملکی اے آئی پلیٹ فارم حساس ڈیٹا پروسیس کر رہے ہیں اور حکومت کے پاس ان سب پر کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

Published: undefined

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پوسٹ میں آگے لکھا کہ ’’میں نے پارلیمنٹ میں الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت سے سوال پوچھا۔ جواب میں بہت کچھ کہا گیا، لیکن جو پوچھا گیا تھا اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔‘‘ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے اپنے سوالات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہمارے کیمرے کن ممالک سے آئے؟ ان میں سے کتنے سیکورٹی کے لحاظ سے تصدیق شدہ ہیں؟ کون سے غیر ملکی اے آئی پلیٹ فارم سرکاری ڈیٹا پروسیس کر رہے ہیں؟ کون سی ممنوعہ ایپس بدلے ناموں کے ساتھ اب بھی چل رہی ہیں؟‘‘ راہل گاندھی کے مطابق وزارت کے جواب میں نہ کوئ تعداد، نہ کوئی جواب اور نہیں کسی بھی ایک پلیٹ فارم کا نام سامنے آیا۔

Published: undefined

راہل گاندھی نے حکومت کے جوابی خط کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’5 سال قبل یہ ماننے کے بعد کہ حکومت کے زیر استعمال 10 لاکھ چینی کیمرے ڈیٹا ٹرانسفر کا خطرہ پیدا کرتے ہیں، آج بھی حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ جو کیمرے آج ہم پر نظر رکھ رہے ہیں وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر کے مطابق حکومت کا یہ عمل جان بوجھ کر ہندوستان کو اندھیرے میں رکھنے کی سازش ہے۔ مودی حکومت اپنی ناکامی پر پردہ ڈال کر غیر ملکی نگرانی کی حقیقت چھپا کر ہر شہری کی حفاظت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined