
تمل ناڈو میں ایک انتخابی جلسہ کے دوران کانگریس صدر کھڑگے و دیگر لیڈران، تصویر ’ایکس‘ @kharge
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے تمل ناڈو کے ویلاچیری میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک ’خطرناک کھیل‘ کھیلنے کی کوشش کی، جس کے تحت خواتین کے ریزرویشن کو 2011 کی مردم شماری پر مبنی حد بندی (ڈیلمیٹیشن) سے جوڑنے کا راستہ نکالا گیا۔ حالانکہ اس کوشش کو ناکام کر دیا گیا۔
Published: undefined
کھڑگے نے کہا کہ اس قدم کے ذریعے تمل ناڈو جیسی ریاستوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کو کم کرنے کی سازش کی جا رہی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس پارٹی نے دہلی میں اس معاملے پر آواز بلند کی اور تمام اپوزیشن پارٹیاں ایک ساتھ آ کر اس بل کی مخالفت میں کھڑی ہوئیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مودی حکومت کی اس سازش کو ناکام بنایا جا سکا۔ انھوں نے اسے ایک بڑی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ صرف سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری کے لیے انصاف اور وفاقی نظام کی جیت ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اتحاد نے یہ ثابت کر دیا کہ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔
Published: undefined
مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ جب تمل ناڈو ترقی کی راہ پر گامزن ہے، تب بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا جا رہا ہے، حالانکہ ریاست معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک طرف تمل ناڈو کو ٹیکس محصولات میں اس کے حصے سے کم رقم دی جا رہی ہے، دوسری طرف ’سمگر شکشا ابھیان‘ کے تحت ملنے والی فنڈنگ مرکزی پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے روکی جا رہی ہے۔ کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ سیلاب اور طوفان جیسی قدرتی آفات کے دوران بھی مرکز کا ردعمل مایوس کن رہا اور ریاستی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
Published: undefined
گورنر کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ وہ غیر جانبدار رہنے کے بجائے منتخب ریاستی حکومت کے کام کاج میں مداخلت کر رہے ہیں، جس سے جمہوری نظام متاثر ہو رہا ہے۔ کھڑگے نے اپنے خطاب میں زور دے کر کہا کہ تمل ناڈو کے عوام اس ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گے اور آنے والے انتخاب میں اس کا بھرپور جواب دیں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: اسکرین شاٹ