راہل گاندھی، ویڈیو گریب
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی اور امتحانی نظام کے مسئلے پر مرکزی حکومت سے سوالات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا تعلیمی اور امتحانی نظام مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے اور اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ’’ہم اسپیکر کے پاس گئے اور کہا کہ ہم طلبہ کے مسئلے پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ اسپیکر نے کہا کہ اس پر بحث کرانے کے لیے حکومت سے بات کرنی ہوگی۔‘‘
لوک سبھا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پیر کو جو کچھ ہوا، اس کے لیے وزیراعظم مودی نے معافی تک نہیں مانگی۔ نوجوان تعلیمی اور امتحانی نظام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پورا ملک جانتا ہے کہ تعلیمی اور امتحانی نظام کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم خاموش کیوں ہیں؟ انہیں طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے اور یہ سب بند کرانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’طلبہ نے اپنے مستقبل سے متعلق جائز سوالات اٹھائے تھے، لیکن انہیں جواب دینے کے بجائے ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔‘‘ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’’اگر پارلیمنٹ ہندوستان کے نوجوانوں کے مستقبل پر بحث نہیں کر سکتی، تو پھر پارلیمنٹ کا مقصد کیا ہے؟‘‘
راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن اس مسئلے کو دبنے نہیں دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کی آواز صرف سڑکوں پر ہی نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کے اندر بھی پوری مضبوطی کے ساتھ اٹھائی جائے گی۔ راہل گاندھی کے ساتھ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے لیڈر اروند ساونت اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران بھی شامل تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔