
آئی اے این ایس
کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دو مرحلوں کی تکمیل کے بعد 4 مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے پیش نظر کولکاتا پولیس نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام گنتی مراکز کے 200 میٹر کے دائرے میں 5 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کا مقصد گنتی سے قبل کسی بھی ممکنہ کشیدگی، احتجاج یا ناخوشگوار واقعے کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق لیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی گنتی مراکز کے آس پاس کچھ مخصوص اشیا لے جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جب تک کہ ان کی اجازت الیکشن کمیشن کی جانب سے نہ دی گئی ہو۔
Published: undefined
دوسری جانب جمعرات کی شام کولکاتا میں ای وی ایم اسٹرونگ رومز کے باہر ہنگامے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ مرکزی کولکاتا کے خدی رام مرکز اور جنوبی کولکاتا کے لارڈ سنہا روڈ پر واقع سخاوت میموریل گورنمنٹ گرلز اسکول کے باہر سکیورٹی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان دونوں مقامات کو تین سطحی سکیرٹی حصار میں رکھا گیا ہے جبکہ 200 میٹر کے دائرے میں گاڑیوں کی آمد و رفت بھی محدود کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس پابندی والے علاقے میں داخل ہونے کے لیے درست شناختی کارڈ لازمی ہوگا اور غیر مجاز افراد کے داخلے کو روکنے کے لیے بھاری اسٹیل بیریکیڈنگ بھی کی گئی ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ بدھ کے روز ترنمول کانگریس کے رہنماؤں ڈاکٹر ششی پنجا اور کنال گھوش نے اپنے حامیوں کے ساتھ اسٹرونگ روم کا دورہ کیا تھا اور ای وی ایم و ڈاک بیلٹ میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد ماحول کشیدہ ہو گیا تھا۔ اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما تاپس رائے اور سنتوش پاٹھک بھی موقع پر پہنچ گئے، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی تھی۔ پولیس اور مرکزی فورسز کو حالات قابو میں کرنے کے لیے خاصی محنت کرنی پڑی۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی سخاوت میموریل اسکول پہنچ کر اسی نوعیت کے الزامات دہرائے، تاہم ریاستی چیف الیکشن افسر منوج کمار اگروال نے دستاویزی شواہد کے ساتھ ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
Published: undefined
اسی دوران الیکشن کمیشن نے تمام 294 اسمبلی نشستوں کے جنرل آبزرورز کو ہدایت دی ہے کہ وہ چار مئی کو صبح آٹھ بجے گنتی شروع ہونے سے قبل اپنے متعلقہ مراکز پر موجود رہیں اور عمل مکمل ہونے تک وہیں قیام کریں۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں متعلقہ جنرل آبزرور کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
گنتی کے عمل کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی مسلح پولیس فورس کی 200 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی جبکہ ریاست میں مجموعی طور پر 700 کمپنیاں اگلے حکم تک موجود رہیں گی۔ اس بار سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے گنتی مراکز کی تعداد کم کر کے 77 کر دی گئی ہے اور داخلے کے لیے تین سطحی جانچ کا نظام نافذ کیا گیا ہے، جس میں آخری مرحلے پر کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق بھی شامل ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined