قومی خبریں

’ہم فخر سے کہتے ہیں، اقتدار میں تبدیلی لا کر رہیں گے‘، راجناتھ سنگھ کے بیان پر کانگریس کا جوابی حملہ

پون کھیڑا نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘ مہم چلا رہے ہیں۔ پورا ملک کھلے عام یہ بات کہہ رہا ہے۔ ہم خود بھی اپنی بات دہرا رہے ہیں کہ ہمیں اس حکومت کو شکست دینی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div>

پون کھیڑا پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ویڈیو گریب

 

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور سابق میڈیا انچارج پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’اقتدار کی تبدیلی‘ سے متعلق بیان کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’ہم حکومت کی تبدیلی کر کے رہیں گے۔ یہ بات ہم فخر سے کہتے ہیں۔ ہم تبدیلی لاکر رہیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا ارادہ ہمیشہ انتخابات کے ذریعہ حکومت تبدیل کرنے کا ہوتا ہے۔

دراصل مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے الزام عائد کیا تھا کہ اپوزیشن کے احتجاج کا مقصد بنگلہ دیش کی طرح ہندوستان میں بھی اقتدار کی تبدیلی کرنا ہے۔ اس بیان پر کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا۔ جمعہ کو دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے کہا کہ ’’اب اچانک راج ناتھ سنگھ حکومت کو بچانے کے لیے آ گئے ہیں۔ انہیں جمہوریت کی عادت ہی ختم ہو گئی ہے۔ جب پوری اپوزیشن خود کہہ رہی ہے کہ اس حکومت کو ہٹانا ہے تو اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ جمہوریت میں انتخابات کے ذریعہ حکومت تبدیل کرنا اپوزیشن کا حق ہے۔‘‘

پون کھیڑا نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ’ووٹ چور گدی چھوڑ‘ مہم چلا رہے ہیں۔ پورا ملک کھلے عام یہ بات کہہ رہا ہے۔ ہم خود بھی اپنی بات دہرا رہے ہیں کہ ہمیں اس حکومت کو شکست دینی ہے اور اس نظام کو بدلنا ہے۔ پھر راج ناتھ سنگھ آگے کیوں آئے؟‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم فخر سے کہہ رہے ہیں کہ ہم حکومت بدلیں گے۔ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رکھیں گے اور تبدیلی لاکر رہیں گے۔ اپوزیشن کا ارادہ ہمیشہ انتخابات کے ذریعہ حکومت تبدیل کرنے کا ہوتا ہے۔‘‘

پون کھیڑا نے بی جے پی لیڈران پر الزام عائد کیا کہ اب انہیں جمہوریت کی عادت نہیں رہی۔ اس کے ساتھ ہی تاریخ کی یاد دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1977 میں بھی ملک میں ’اقتدار کی تبدیلی‘ ہوئی تھی، جو پوری طرح جمہوری طریقے سے ہوئی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی 2013 میں ’رجیم چینج‘ کی بات کہی تھی اور بی جے پی ان کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ جب یہ لوگ 13-2012 میں تحریک چلا رہے تھے تو بی جے پی کو یہ اچھے لگتے تھے۔

پون کھیڑا نے مودی بریگیڈ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ماضی کی باتیں کریں گے، ایک ایسے ماضی کی جو خیالی ہے۔ کانگریس نے یہ غلطی کی، کانگریس نے وہ غلطی کی، اس نے یہ غلطی کی۔ اور پھر وہ مستقبل کی باتیں کریں گے، 2047 کی۔‘‘ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ تو 2047 سے بھی آگے نکل گئے اور 2050 تک پہنچ گئے۔ راج ناتھ سنگھ پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ارے صاحب، آج ملک کو گڈھے میں ڈال رہے ہیں اور ہمیں آنے والا کل دکھا رہے ہیں۔ پہلے ملک کو آج کے مسائل سے تو باہر نکالیے۔ پہلے اس گڈھے سے تو نکل لیں، پھر مستقبل کی بات کیجیے۔‘‘

دراصل آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا نے ایک بیان میں ’رجیم چینج‘ کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کی جین-زی تحریک کو جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کے نوجوانوں سے تحریک ملی ہے۔ اسی بیان کے بعد سے بی جے پی حملہ آور ہے اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی اسی معاملے کو لے کر نشانہ بنایا۔ راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ اپوزیشن کے کچھ لیڈران بنگلہ دیش کی طرح ہندوستان میں بھی اقتدار کی تبدیلی کی سازش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی لڑائی ایس آئی آر کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اپوزیشن لیڈران نوجوانوں کو انتشار کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ انتشار کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے واضح کر دیا کہ وہ اقتدار میں تبدیلی ضرور چاہتے ہیں، لیکن جمہوری طریقے سے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔