پریس کانفرنس کرتے ہوئے راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
’’ووٹ چوری، گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے ایشوز کو لے کر دہلی میں عوامی تحریک چل رہی ہے۔ غصہ بہت پہلے سے تھا، لیکن اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔‘‘ یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی آج ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے گزشتہ کچھ دنوں کے حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’دہلی قید کیوں ہے؟ ہندوستان کی راجدھانی قید کیوں ہے؟ لوگوں کو دہلی پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے دہلی میں پولیس کے ذریعہ کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہلی کو قلعہ بنا دیا گیا ہے، لیکن ہماری حکمت عملی مختلف ہے۔ ہم ملک کو دکھانا چاہتے ہیں کہ نریندر مودی اور ان کی حکومت گیانیش کمار کو بچا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جو کارروائی ہو رہی ہے، اس سے پولیس بھی پریشان ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’پولیس والے کہہ رہے ہیں، ہم سے ملک کے نوجوانوں کو پٹوایا جا رہا ہے، لیکن آر ایس ایس کے لوگوں کو آزاد گھومنے دیا جا رہا ہے۔ یہی بی جے پی-آر ایس ایس کے غنڈے خواتین کو پیٹ رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ پولیس، آئی ٹی بی پی، عوام، اپوزیشن پارٹیاں ایک طرف ہیں اور دوسری طرف مودی، شاہ، اجیت ڈووال، گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے ووٹ چور ہیں۔
راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے 200 افسران ان کے رابطے میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ای ڈی، سی بی آئی، وزارت خارجہ کے اندر سے سبھی ہمیں جانکاریاں دے رہے ہیں۔‘‘ مودی حکومت کو چیلنج پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’آپ کو جو کرنا ہے کرو، سچائی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’گیانیش کمار کی حالت ہم جانتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ رات کو سو نہیں پا رہے ہیں۔ انھوں نے جس طرح سے لاکھوں لوگوں کے حقوق چھینے ہیں، اس پر لوگ سوال پوچھ رہے ہیں۔‘‘ براہ راست گیانیش کمار کو مخاطب کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’آپ بچیں گے نہیں۔ ہمارے پاس آپ کے متعلق جانکاری ہے۔ ہم آپ کے ماضی کو جانتے ہیں، ہمیں آپ کی ہر بدعنوانی کی خبر ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے باراکھمبا روڈ سے سپریم کورٹ کے لیے مجوزہ مارچ میں سبھی لوگوں سے شریک ہونے کی اپیل بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو بھی آئین کی حفاظت کرنا چاہتا ہے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا ہو، وہ آ سکتا ہے۔ اگر بی جے پی کے لوگ بھی سوچتے ہیں کہ آئین پر حملہ ہو رہا ہے، تو آپ بھی آ جاؤ۔‘‘ انھوں نے انتہائی واضح لفظوں میں کہا کہ ’’یہ آئین بچانے کی لڑائی ہے، آپ کے مستقبل کی لڑائی ہے۔ اگر آپ سیدھے نہیں آ سکتے، تو جب ہم 3 بجے سپریم کورٹ میں پٹیشن فائل کر رہے ہوں گے، تو آپ تعاون کا اظہار کریں اور خود کو سامنے لائیں۔ آپ ملک کو بتائیے کہ مودی حکومت جو کر رہی ہے وہ غلط ہے اور ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔