قومی خبریں

اتر پردیش میں پرانے بجلی میٹروں کو اسمارٹ پری پیڈ سے بدلنے پر روک، صارفین کے مسلسل احتجاج پر حکومت نے لیا فیصلہ

ریاست میں 3.5 کروڑ میٹر تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس پرتیزی سے کام چل رہا تھا۔ کئی اضلاع میں میٹر لگا دیئے گئے ہیں۔ جس کے بعد بلوں میں اضافہ دیکھ کر صارفین ناراض ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>

علامتی تصویر

 

اترپردیش میں اسمارٹ میٹروں کے معاملے پر تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں حکومت نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے ریاست بھرمیں اسمارٹ میٹر کی تبدیلی فی الحال روک دی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ تنازعہ کی وجہ سے حکومت نے اس منصوبے کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاع کے مطابق معاملے میں ٹیکنیکل کمیٹی کی رپورٹ آنے تک اسمارٹ میٹر کی تبدیلی روک دی گئی ہے۔ مخالفت کی وجہ سے فی الحال اسمارٹ میٹر نہیں لگائے جائیں گے۔ یہ حکم پاور کارپوریشن کے چیئرمین کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

Published: undefined

بتا دیں کہ اتر پردیش میں اسمارٹ میٹر لگانے کے معاملے پرمخالفت کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ اس دوران احتجاج بھی ہورہے تھے۔ موجودہ صورتحال کی روشنی میں حکومت کی طرف سے کارروائی کی گئی ہے۔ اسمارٹ میٹر کے حوالے سے اگلا فیصلہ 12 اپریل کو کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بجلی کے نئے کنکشن اب بھی اسمارٹ پری پیڈ میٹر کے ساتھ ہی دیئے جائیں گے۔ ریاست میں 3.5 کروڑ میٹروں کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس پر تیزی سے کام شروع کر دیا گیا تھا۔ ریاست کے کئی اضلاع میں میٹر لگا دیئے گئے ہیں۔ جس کے بعد بلوں میں اضافہ دیکھ کر صارفین ناراض ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔

Published: undefined

ریاست میں پرانے میٹروں کو ہٹا کر اب تک 78 لاکھ اسمارٹ میٹر لگائے جاچکے ہیں وہیں دوسری طرف اس کارروائی کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہے۔ الزام ہے کہ صارفین کی مرضی کے بغیر پرانے میٹروں کو پری پیڈ میٹر سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا ان کے معیار اور زیادہ بل آنے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں. اس اسکیم کے تحت حکومت کو 27 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے پرانے میٹروں کو نئے پری پیڈ میٹر میں تبدیل کیا جانا تھا۔ اس کے لیے صارفین سے کوئی خرچ نہیں لیا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined