
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
’اتر پردیش گینگسٹر ایکٹ‘ پر سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ سامنے آیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ یوپی گینگسٹر ایکٹ سے کوئی جرم تشکیل نہیں پاتا۔ یہ صرف بے خبر شہریوں کے خلاف تشدد کو فروغ دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ 2 وکیلوں کے خلاف یوپی گینگسٹر ایکٹ کے تحت جاری مجرمانہ کارروائی کو منسوخ کرتے ہوئے کیا۔
سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں سماعت کے دوران کہا کہ صرف کسی شخص کو گینگسٹر قرار دینے کی بنیاد پر اس کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا اور نہ ہی اسے سزا دی جا سکتی ہے۔ سخت الفاظ میں دیے گئے فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا کہ تشدد اور منظم مجرمانہ سرگرمیوں پر روک لگانے کے مقصد سے بنایا گیا یہ قانون، دراصل بے خبر شہریوں کے خلاف ہی استعمال ہو سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ قانون تشدد روکنے کے بہانے دراصل شہریوں کے خلاف تشدد کو فروغ دینے والا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ایکٹ کسی الگ جرم کو تشکیل دیے بغیر صرف گینگسٹر کی حیثیت کی وضاحت کرتا ہے اور ایکٹ کے تحت بیان کردہ سزا کے لیے کوئی متعلقہ جرم ہی موجود نہیں ہے۔‘‘ جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے یہ تبصرہ کیا۔
بنچ نے کہا کہ قانون میں جرم کے بغیر کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ ہم نے پایا، 1986 کا ایکٹ کوئی جرم تشکیل نہیں دیتا۔ یہ صرف اس شخص کی حیثیت کو گینگسٹر کے طور پر بیان کرتا ہے جو جرم میں ملوث ہے۔ یہ تعریف دفعہ 2 کی ذیلی دفعات (b) اور (c) میں دی گئی ’گینگ‘ اور ’گینگسٹر‘ کی تعریفوں پر مبنی ہے۔ جس تعزیری قانون کے تحت مجرمانہ کارروائی شروع کی جاتی ہے، اسے ایک جرم تشکیل دینا چاہیے اور سزا بھی اسی قانون کی دفعات کے مطابق ہونی چاہیے۔ بنچ کا کہنا ہے کہ جس قانون کا ہم جائزہ لے رہے ہیں، اس میں ہمیں کوئی جرم تشکیل پاتا ہوا نظر نہیں آتا۔
یہ معاملہ 2 وکیلوں شیو پرتاپ سنگھ اور ہمانشو شریواستو سے متعلق ہے۔ ان کے خلاف فرخ آباد کے فتح گڑھ میں بار ایسوسی ایشن کے انتخاب کو لے کر ہوئے تنازعے کی وجہ سے یوپی گینگسٹر ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔ ان کے خلاف یوپی ایکٹ کی دفعہ 2/3 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کارروائی منسوخ کرنے سے انکار کیے جانے سے ناراض ہو کر وکیلوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔