قومی خبریں

یوپی: الٰہ آباد ہائی کورٹ نے تمام پرائمری اساتذہ کے تقرری ناموں کی جانچ کا دیا حکم

عدالت نے کہا کہ پرائمری اسکولوں کے تمام اساتذہ ایک ہفتہ کے اندر اپنے تقرری ناموں اور تعلیمی دستاویزات کی کاپیاں متعلقہ بنیادی تعلیمی افسران کو دستیاب کرائیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس

 

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کو ریاست کے پرائمری اسکولوں میں کام کرنے والے اور پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کو پڑھانے والے تمام اساتذہ کے تقرری ناموں اور تعلیمی دستاویزات کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پرائمری اسکولوں کے تمام اساتذہ ایک ہفتہ کے اندر اپنے تقرری ناموں اور تعلیمی دستاویزات کی کاپیاں متعلقہ بنیادی تعلیمی افسران (بی ای او) کو دستیاب کرائیں گے۔ بنیادی تعلیمی افسران ان دستاویزات کو ایس ٹی ایف کے دفتر میں جمع کریں گے۔

جسٹس ونود دیواکر نے ایس ٹی ایف کو ہدایت دی کہ وہ ضرورت پڑنے پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یا پولیس کمشنر کی مدد سے دستاویزات کی تصدیق کا نظام تیار کریں۔ ایک معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نے پایا کہ 10 اساتذہ کی تقرری کے لیے ایک ہی سرٹیفکیٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن ان کارروائیوں پر نظر رکھیں گے۔ وہ روزانہ نگرانی کے لیے کسی افسر کو نامزد بھی کر سکتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اسی طرح ایس ٹی ایف کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل تصدیق اور جانچ کی نگرانی کریں گے۔ وہ بھی روزانہ نگرانی کے لیے کسی افسر کو نامزد کر سکتے ہیں۔ عدالت نے 16 اکتوبر کو دیے گئے اپنے حکم میں وارننگ دی کہ کسی بھی افسر کی جانب سے کی گئی لاپرواہی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور متعلقہ افسران کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت 4 نومبر کو ہوگی۔ عدالت نے مزید کہا کہ ’’یہ سب جانتے ہیں کہ طلبہ کی تعداد میں کمی کے باعث کئی پرائمری اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔ طلبہ کی تعداد وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ تعلیم کا معیار خراب ہونے کے سبب کم ہوئی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ موجودہ معاملے میں خاتون ٹیچر کُسم لتا کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کے دوران ایس ٹی ایف کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ عرضی گزار نے کُسم لتا شریواستو نامی خاتون کے تعلیمی دستاویزات کا استعمال کر مبینہ طور پر فرضی طریقے سے ملازمت حاصل کی۔ کُسم لتا شریواستو پہلے سے ہی گورکھپور میں اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ایس ٹی ایف کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں اساتذہ نے مبینہ طور پر فرضی دستاویزات کی بنیاد پر ملازمت حاصل کی ہے۔ کئی معاملات میں 10 یا اس سے زائد لوگوں نے تعلیمی دستاویزات کے ایک ہی سیٹ کی بنیاد پر ملازمت حاصل کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔