آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما / تصویر: آئی اے این ایس
آسام کابینہ سے منظوری کے 2 ہفتے بعد ریاستی حکومت نے پیر کے روز اسمبلی میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل پیش کر دیا ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر اتل بورا نے ایوان کی میز پر ’دی یونیفارم سول کوڈ آسام، بل، 2026‘ پیش کیا۔ اس بل پر 27 مئی کو بحث ہوگی جس کے بعد اسے پاس کئے جانے کا امکان ہے۔ حالانکہ اپوزیشن اراکین نے آسام اسمبلی میں یو سی سی بل پیش کئے جانے کی شدید مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بل کو پیش کرنے سے پہلے اس پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع بحث ہونی چاہئے۔
Published: undefined
اس سے قبل 13 مئی کو وزیر اعلیٰ سرما کی دوسری میعاد کی پہلی کابینہ میٹنگ ہوئی تھی جس کے بعد حکومت نے اعلان کیا تھا کہ 21 سے 26 مئی تک چلنے والے موجودہ اسمبلی اجلاس کے دوران یہ بل لایا جائے گا۔ کابینہ کے فیصلوں کی معلومات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ کابینہ نے یونیفارم سول کوڈ کے مسودے کو منظوری دے دی ہے، جسے اجلاس کے آخری دن پیش کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کے مطابق اس بل کے مسودے کو آسام کی مخصوص آبادیاتی تنوع اور سماجی تانے بانے کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ یہ نیا قانون بنیادی طور پر سول سوسائٹی سے متعلق 5 بڑے مسائل کو منظم کرے گا۔
Published: undefined
مجوزہ قانون کے مطابق ریاست میں کثرت ازواج پر پوری طرح قانونی پابندی عائد ہوگی۔ وہیں شادی کے لئے کم از کم قانونی عمر کا ایک مقررہ پیمانہ نافذ ہوگا۔ اس کے علاوہ طلاق اور شادی کا رجسٹریشن ہوگا جس کے مطابق سبھی شادیوں اور طلاق کا سرکاری ریکارڈ درج ہونا ضروری ہوگا۔ قانون میں بیٹیوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہیں یعنی آبائی جائیداد اور وراثت کے معاملات میں عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔ آخری اہم مسئلہ ’لیو ان ریلیشن شپ ‘ کا ہے جس میں بغیر شادی کے رہنے والے جوڑوں یعنی لیو ان ریلیشن شپ کے لیے سخت قانون اور رجسٹریشن لازمی ہوگا۔
Published: undefined
اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد آسام ملک میں یوسی سی بل پاس کرنے والا تیسرا صوبہ بن جائے گا۔ حالانکہ ریاستی حکومت کو شروعات میں ہی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس بل کو لے کر اسمبلی کے اندر اور باہر زبردست ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ حکمراں پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے ہی اجلاس میں یو سی سی لاکر عوام سے کیا گیا اپنا سب سے بڑا وعدہ پورا کیا ہے وہیں دوسری طرف کانگریس، ٹی ایم سی اور دیگر اپوزیشن اراکین نے اس پر تلخ رد عمل کا ظہار کیا ہے۔ اپوزیشن نے قانون کو لانے کے وقت اور اس کے سماجی اثرات کو لے کر ایوان میں سخت احتجاج درج کرایا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined