قومی خبریں

’حزب اختلاف کو ایوان میں ہی بولنے نہیں دیا جاتا تو وہ کہاں بولیں گے؟‘ راجیہ سبھا میں اجے ماکن کا حکومت پر حملہ

راجیہ سبھا میں ایم ایس ایم ای بل پر بحث کے دوران اجے ماکن نے بے روزگاری، طلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال، قائد حزب اختلاف کو بولنے سے روکنے اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / ویڈیو گریب</p></div>

اجے ماکن / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) ترقی (ترمیمی) بل 2026 پر بحث کے دوران کانگریس کے رکن اجے ماکن نے حکومت پر بے روزگاری، طلبہ کے ساتھ زیادتی، اپوزیشن کی آواز دبانے اور بڑے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات عائد کیے۔ ان کی تقریر کے دوران نائب چیئرمین نے کئی مرتبہ انہیں زیر بحث بل تک محدود رہنے کی ہدایت دی، جبکہ قائد ایوان جے پی نڈا نے بھی ان کی تقریر پر اعتراض کیا، جس کے بعد ان کی تقریر مکمل نہ ہو سکی۔

اجے ماکن نے اپنی تقریر کا آغاز ایوان میں قائد حزب اختلاف کو بولنے کی اجازت نہ ملنے کے معاملے سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دہلی اسمبلی، لوک سبھا اور راجیہ سبھا تینوں ایوانوں میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا ہے، لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ قائد حزب اختلاف بولنا چاہیں اور انہیں اظہار خیال کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ اگر ایوان کے اندر قائد حزب اختلاف اپنی بات نہیں رکھ سکتے تو پھر وہ اپنی آواز کہاں اٹھائیں گے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ حکومت عوامی مسائل سے بے نیاز دکھائی دیتی ہے۔ اجے ماکن نے حکومت کو بے روزگاری کے مسئلے پر بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’آج ملک میں بے روزگاری اپنے عروج پر ہے اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، کیونکہ اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والا ہر بل کسی نہ کسی طرح ملک کے نوجوانوں اور طلبہ سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو تو اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ اس معاملے کو ایوان میں اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب طلبہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان پر پیلٹ گن چلائی جاتی ہے، لیکن ایسے معاملات پر بھی قائد حزب اختلاف کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔

اجے ماکن نے ایم ایس ایم ای شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں بڑے کارپوریٹ اداروں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے یکساں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ملک میں دو طرح کے قانون چل رہے ہیں، ایک ایم ایس ایم ای کے لیے اور دوسرا بڑے کارپوریٹ گھروں کے لیے۔ جہاں بڑے کارپوریٹ اداروں کو ’ہیئر کٹ‘ کی اجازت دی جاتی ہے، وہیں ایم ایس ایم ای کا ’گلا کٹ‘ ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے بجائے بڑے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس اہم بحث کے دوران متعلقہ وزراء بھی ایوان میں موجود نہیں ہیں۔

جے پی نڈا کے اعتراض کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی اجے ماکن کی تقریر پر اعتراض ظاہر کیا اور آخرکار چیئرمین نے اجے ماکن کو مزید بولنے کا موقع نہیں دیا۔ بعد میں ایوان نے ہنگامہ آرائی کے درمیان ایم ایس ایم ای ترقی (ترمیمی) بل 2026 صوتی ووٹ سے منظور کر لیا، جبکہ اپوزیشن نے اس پر اپنے اعتراضات بھی درج کرائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔