قومی خبریں

دہلی فسادات معاملہ: عمر خالد کی ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں نئی درخواست

عمر خالد نے دہلی فسادات کے مبینہ سازش معاملہ میں سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام گواہوں کی گواہی 5 جنوری 2027 تک مکمل ہونا ممکن نہیں اور وہ طویل عرصے سے حراست میں ہیں

<div class="paragraphs"><p>عمر خالد / آئی اے این ایس</p></div>

عمر خالد / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم عمر خالد نے 2020 کے دہلی فسادات سے جڑے مبینہ سازش کے معاملہ میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کی درخواست ایسے وقت میں دائر ہوئی ہے جب دہلی ہائی کورٹ نے 30 ستمبر کو خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ خالد نے اپنی تازہ درخواست میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی مقرر کردہ ایک سال کی مدت جلد ختم ہونے والی ہے، جبکہ استغاثہ کے محفوظ گواہوں کی گواہی 5 جنوری 2027 تک مکمل ہونے کا امکان نہیں۔

خالد کی درخواست کے مطابق، گواہوں کی شہادتیں مکمل ہونے یا سپریم کورٹ کے حکم کے ایک سال پورا ہونے پر وہ دوبارہ ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقدمہ کی موجودہ پیش رفت دیکھتے ہوئے گواہوں کی گواہی مقررہ مدت میں پوری ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ طویل عرصے سے جاری حراست اور مقدمہ کے جلد ختم نہ ہونے کے خدشہ کو بھی انہوں نے ضمانت کے حق میں دلیل بنایا ہے۔

سپریم کورٹ نے 5 جنوری 2026 کو جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ کے ذریعہ خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی تھیں۔ عدالت نے مقدمہ میں استغاثہ کے الزامات اور مواد کا ابتدائی جائزہ لیتے ہوئے دونوں کو مبینہ سازش میں مرکزی کردار ادا کرنے والا قرار دیا تھا۔ یہ مشاہدات ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کے تناظر میں تھے، مقدمہ میں الزام ثابت یا غیر ثابت ہونا ٹرائل کے بعد طے ہوگا۔

اسی فیصلہ میں عدالت نے خالد اور امام کے کردار کو 5 دیگر ملزمان سے الگ قرار دیتے ہوئے گلفشہ فاطمہ سمیت ان 5 افراد کو ضمانت دی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے ستمبر میں خالد اور امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے مقرر کردہ طریقۂ کار میں ترمیم نہیں کر سکتا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق، دونوں نے جون میں ٹرائل کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی تھی، مگر درخواستیں مسترد ہوئیں۔ بعد میں وہ ہائی کورٹ پہنچے؛ عدالت نے ان کی دلیلوں پر غور کیا، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے میں دی گئی شرائط کو بنیاد بنا کر ضمانت نہیں دی۔

خالد نے سپریم کورٹ میں طویل حراست اور مقدمہ کی سست رفتار کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ میں درج ہے کہ فردِ جرم سے متعلق دلائل 13 جولائی کو مکمل ہوئے تھے، لیکن مقدمہ کی کارروائی ایک شریک ملزم کی دستاویزات سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی منتظر تھی۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ استغاثہ کی جانب سے تاخیر کا الزام اس اپیل میں نہیں لگایا گیا تھا؛ مقدمہ کی رفتار پر دیگر عدالتی کارروائیوں اور حالات کا اثر تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔