قومی خبریں

ادے ندھی اسٹالن کی حراست کا معاملہ: مدراس ہائی کورٹ کی ہدایت- ’پوچھ گچھ مکمل ہوتے ہی رِہا کیا جائے‘

تمل ناڈو اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ادے ندھی کو ایک اداکارہ پر مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کے معاملے میں پولیس نے حراست میں لیا۔ مدراس ہائی کورٹ نے پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا کرنے کی ہدایت دی

<div class="paragraphs"><p>اودے ندھی اسٹالن، تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/PTTVOnlineNews">@PTTVOnlineNews</a></p></div>

اودے ندھی اسٹالن، تصویر @PTTVOnlineNews

 

چنئی: تمل ناڈو اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور ڈی ایم کے رہنما ادے ندھی اسٹالن کو اداکارہ ترشا کرشنن سے متعلق مبینہ قابل اعتراض تبصرے کے معاملے میں منگل کے روز چنئی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں مدراس ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ ضروری پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے اور ریمانڈ پر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سماعت کے دوران ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادے ندھی اسٹالن کو باضابطہ طور پر گرفتار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ ایک خاتون کی عزت و وقار سے متعلق ہے، اس لیے قانونی تقاضوں کے تحت انہیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ تاہم حکومت انہیں عدالتی تحویل یا پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

سرکاری وکیل نے مزید بتایا کہ واقعہ تنجاؤر ضلع میں پیش آیا تھا، اسی لیے ادے ندھی اسٹالن کو وہاں لے جا کر تفتیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ یہ کارروائی صرف تحقیقات کا حصہ ہے اور ان کی باقاعدہ گرفتاری کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

سرکاری وکیل کے بیان کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ نے کہا کہ تفتیشی ایجنسیاں ضروری پوچھ گچھ کر سکتی ہیں، لیکن پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد ادے ندھی اسٹالن کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر انہیں ریمانڈ پر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

قبل ازیں، منگل کی صبح ادے ندھی اسٹالن کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ ان کی حراست کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایم کے کے متعدد رہنما اور کارکن ان کے گھر پہنچ گئے۔ ایم سبرامنیم، ای وی ویلو، این آر ایلنگو اور پرنتھمن سمیت کئی سینئر رہنما وہاں موجود رہے، جبکہ بڑی تعداد میں کارکنوں کے جمع ہونے سے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

ادے ندھی اسٹالن کو پولیس گاڑی میں لے جاتے وقت انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور ایسی باتیں ان کے نام سے منسوب کی جا رہی ہیں جو انہوں نے کہیں ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ ایم کروناندھی کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ڈی ایم کے خاندان کا حصہ ہیں اور پارٹی صدر ایم کے اسٹالن کے بیٹے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے تقریباً 22 منٹ کی تقریر میں کسانوں کے مسائل، حکومت کے وعدوں اور میکیداتو ڈیم کے معاملے پر حکومت کے رویے پر تنقید کی تھی، لیکن ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔

ادے ندھی اسٹالن کے خلاف خاتون کی عزت و وقار کو ٹھیس پہنچانے، عوامی اشتعال انگیزی، امن عامہ میں خلل ڈالنے اور دیگر الزامات سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ شکایت تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوزف وجے کی جماعت تملگا ویتری کڑگم (ٹی وی کے) کی جانب سے پولیس اور قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) میں درج کرائی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔