
آئی اے این ایس
بھوپال: ماڈل اور اداکارہ ٹویشا شرما کی پراسرار موت کے معاملے میں خصوصی عدالت نے ان کی ساس گری بالا سنگھ اور شوہر سمرتھ سنگھ کی عدالتی تحویل میں 14 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔ دونوں ملزمان کو بھوپال سینٹرل جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کی سابقہ عدالتی تحویل کی مدت ختم ہونے کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت تک انہیں جیل میں رکھنے کا حکم جاری کیا۔
Published: undefined
سماعت کے دوران مرکزی تفتیشی بیورو نے دونوں ملزمان کی مزید جسمانی تحویل کی درخواست نہیں کی۔ تفتیشی ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ معاملے کی جانچ مسلسل جاری ہے اور مختلف پہلوؤں سے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس میں دستاویزی ریکارڈ، فرانزک رپورٹیں، الیکٹرانک شواہد اور گواہوں کے بیانات شامل ہیں، جن کی بنیاد پر موت کی اصل وجوہات تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
ٹویشا شرما 12 مئی کو بھوپال میں اپنے سسرال کے گھر میں مشتبہ حالات میں مردہ پائی گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد ان کے اہل خانہ نے جانچ پر سوالات اٹھاتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ معاملے کی حساسیت اور عوامی توجہ کے پیش نظر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں آزادانہ جانچ کی درخواستیں دائر کی گئیں، جن پر سماعت کے بعد عدالت نے پورا معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو کے سپرد کر دیا تھا۔
تحقیقات اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو نے اس ماہ کے آغاز میں ٹویشا شرما کی ساس گری بالا سنگھ اور شوہر سمرتھ سنگھ کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں کو خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ابتدائی مرحلے میں انہیں پوچھ گچھ کے لیے مرکزی تفتیشی بیورو کی تحویل میں بھیجا گیا۔ جسمانی تحویل کی مدت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا اور تب سے دونوں بھوپال سینٹرل جیل میں بند ہیں۔
Published: undefined
منگل کو ہونے والی سماعت میں بھی دونوں ملزمان کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش کیا گیا۔ عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو کی جانب سے مزید جسمانی تحویل کی کوئی درخواست نہ آنے کے بعد ان کی عدالتی تحویل میں 14 جولائی تک توسیع کر دی۔ تفتیشی ایجنسی نے اب تک اپنی جانچ کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کی تفصیلات عوام کے سامنے ظاہر نہیں کی ہیں اور صرف یہی کہا ہے کہ تحقیقات ہر ممکن زاویے سے جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق مرکزی تفتیشی بیورو اس معاملے میں متعدد افراد سے پوچھ گچھ کر چکا ہے اور حاصل ہونے والے شواہد کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے۔ فرانزک تجزیے، الیکٹرانک ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر واقعے کے حالات اور موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدالت کی جانب سے عدالتی تحویل میں توسیع کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مرکزی تفتیشی بیورو اپنی جانچ مکمل کرنے کے بعد آئندہ قانونی کارروائی کے سلسلے میں مناسب فیصلہ کرے گا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined