ویڈیو گریب
ترکیہ فضائیہ کا ایف-16 لڑاکا طیارہ بدھ (25 فروری) کی صبح بالیکیسر ایئر بیس سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ وزارت دفاع سے موصول ابتدائی اطلاع کے مطابق حادثے میں پائلٹ کی موت ہو گئی ہے۔ طیارہ گرنے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے اور حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ یہ حادثہ برصہ-ازمیر ہائی وے کے پاس ہوا، اطلاع ملتے ہی ایمبولینس اور پولیس کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
Published: undefined
واقعے کے بعد انٹرنیٹ پر آنے والی فوٹیج میں لوگ جائے وقوعہ کی طرف بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور زمین پر ملبہ بکھرا ہوا ہے۔ شہر کے گورنر اسماعیل استاوغلو نے کہا کہ ’’بالیکیسر میں 9ویں مین جیٹ بیس کمانڈ کے اسکواڈرن کا ہمارا ایک ایف-16 ایئرکرافٹ تقریباً 00:50 بجے ایک مشن فلائٹ کے دوران گر کر تباہ ہو گیا اور ہمارا ایک پائلٹ شہید ہو گیا ہے۔ میں اللہ سے اپنے شہید پر رحم کی دعا کرتا ہوں اور ان کے اہل خانہ کے تئیں دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘
Published: undefined
ایف-16 فائٹنگ فالکن ایک سنگل انجن، سپرسونک ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ ہے جسے اصل میں امریکہ میں جنرل ڈائنامکس نے تیار کیا تھا اور بعد میں لاک ہیڈ مارٹن نے بنایا۔ 1970 کی دہائی میں ایک ہلکے وزن کے ’ایئر سپیریوریٹی ڈے فائٹر‘ کے طور پر اس کا آغاز ہوا۔ اس طیارے کو ہائی مینیووریبلٹی، جدید ایویونکس اور کم لاگت آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ، اسے ایک ’آل ویدر ملٹی رول پلیٹ فارم‘ میں اپ گریڈ کر دیا گیا جو فضا سے فضا میں لڑائی، زمینی حملوں اور درست نشانہ بنانے والے مشن انجام دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
Published: undefined
ترکیہ فضائیہ نے 1987 میں اپنا پہلا ایف-16 فائٹنگ فالکن طیارہ خریدا تھا۔ اس کے بعد ان جیٹ طیاروں کو کثیر مرحلہ پیس اونیکس پروگرام کے تحت ملک کے اندر ہی تیار کیا گیا۔ 2015 میں ٹرکش ایرو اسپیس انڈسٹریز کے کامن کنفیگریشن امپلیمینٹیشن پروگرام (سی سی آئی پی) کے تحت اس بیڑے کو بلاک 50/52+ اسٹینڈرڈ میں مکمل طور پر اپ گریڈ کیا گیا، جس سے اس کے ایویونکس، ریڈار سسٹم اور جنگی صلاحیتوں کو بہتر بنایا گیا ہے۔ اس حادثے نے اس کی حفاظت اور تکنیکی نقائص پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined