قومی خبریں

ہندوستان پر آج سے ٹرمپ کا جوابی ٹیرف نافذ، کئی اشیاء پر پڑ سکتا ہے اس کا اثر

ٹرمپ کے جوابی ٹیرف کا سب سے زیادہ اثر دواؤں پر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیورات، الیکٹرونکس، آٹو پارٹس سمیت کئی چیزوں پر بھی اس کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>

تصویر ’انسٹاگرام‘

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’ٹیرف وار‘ کا اثر پوری دنیا کے ساتھ ہندوستان پر بھی پڑنے والا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر عائد کیا گیا 26 فیصدی جوابی ٹیرف آج سے نافذ ہو گیا۔ امکان ہے کہ اس کا اثر زیورات پر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرونکس، آٹو پارٹس سمیت کئی چیزوں پر اثر پڑنے جا رہا ہے۔

Published: undefined

امریکہ نے ہندوستان پر پہلے 27 فیصد درآمداتی ٹیرف عائد کیا تھا لیکن بعد میں اس میں سے 1 فیصد گھٹا کر اسے 26 فیصد کر دیا گیا۔ ٹرمپ کی طرف سے پیش کیے گئے چارٹ کے مطابق ہندوستان 52 فیصد ٹیرف لیتا ہے اور امریکہ اب ہندوستان سے 26 فیصد ٹیرف کا رعایتی جوابی ٹیرف وصول کرے گا۔ یہ 26 فیصد ٹیرف امریکہ میں ہندوستانی اشیاء پر لگنے والے موجودہ ٹیرف سے الگ ہے۔

Published: undefined

ٹرمپ کے ذریعہ ہندوستان پر لگائے گئے ٹیرف کا سب سے زیادہ اثر دواؤں پر پڑے گا۔ ہندوستان سے امریکہ میں سستی دوائیں جاتی ہیں۔ امریکہ ہندوستان سے 12 ارب ڈالر سے زیادہ کی دوائیں اور فارما پروڈکٹس لیتا ہے۔ 24-2023 میں ہندوستان کا امریکہ کے ساتھ ٹریڈ سرپلس 35.32 ارب ڈالر تھا۔ ٹیرف سے یہ سرپلس کم ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

خبر ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد ہندوستانی حکومت الرٹ موڈ میں ہے۔ امکان ہے کہ امریکی ٹیرف کے معاملے پر آج کابینہ کی میٹنگ ہو سکتی ہے۔ فی الحال اسے لے کر سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

Published: undefined

ہندوستان کی وزارت کامرس نے کہا ہے کہ وہ سبھی متعلقہ فریقوں سے بات کر رہے ہیں جن میں ہندوستانی صنعت اور ایکسپورٹر شامل ہیں تاکہ اس بدلاؤ کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکے اور ترقی یافتہ بھارت کے نظریہ کے تحت حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر ٹیرف عائد کرنے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کو ’اچھا دوست‘ بتایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مودی ان کے اچھے دوست ہیں لیکن ہندوستان ہمارے ساتھ ٹھیک سلوک نہیں کرتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا، ’ہندوستان ہم سے 52 فیصد ٹیکس لیتا ہے اس لیے ہم ان پر آدھا یعنی 26 فیصد ٹیکس لگائیں گے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined