قومی خبریں

روس اور یوکرین کے درمیان ’انرجی سیزفائر‘ نافذ، ٹرمپ کا دعویٰ؛ وائٹ ہاؤس نے بھی کی تصدیق

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی سے متعلق جنگ بندی نافذ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس اعلان کی تصدیق کی، تاہم جنگ بندی کی شرائط اور مدت واضح نہیں ہیں

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)

 

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان طویل عرصے سے جاری جنگ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے ’انرجی سیزفائر‘ نافذ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کر کے اس کی اطلاع دی، جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے بھی ان کی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں انرجی سیزفائر فوری طور پر نافذ ہو گئی ہے۔ دونوں فریق اس پر متفق ہو گئے ہیں۔ اسے نہ توڑیں۔ اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے شکریہ۔ صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ۔‘‘

وائٹ ہاؤس نے بھی صدر کی پوسٹ کو ری پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں توانائی سے متعلق جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو گئی ہے۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ اگر روس یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روک دیتا ہے تو یوکرین بھی روسی تیل کی ریفائنریوں پر حملے بند کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب دونوں ممالک ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے ایک روز قبل، یعنی ہفتے کے دن، یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر کیے جانے والے حملوں کو امریکہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ انہوں نے زیلنسکی سے حملے روکنے کی اپیل کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرین کو اپنا رہنما تبدیل کر لینا چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق، زیلنسکی روس کے ساتھ سمجھوتے کے کئی مواقع گنوا چکے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ماسکو معاہدے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، لیکن کیف کی جانب سے سمجھوتے پر آمادگی واضح نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا، ’’میرا خیال ہے کہ روس معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس معاملے پر کئی مرتبہ بات چیت آگے بڑھی اور پھر پیچھے ہٹی، لیکن روس سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کا خاتمہ پہلے بھی کئی مرتبہ ممکن تھا، لیکن کسی وجہ سے زیلنسکی معاہدہ نہیں کرنا چاہتے۔ ٹرمپ نے اس یقین کا اظہار بھی کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول، پوتن واقعی کسی حل اور سمجھوتے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کے یہ بیانات جمعے کے روز پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد سامنے آئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روسی ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر امریکہ اور یوکرین کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ تاہم، توانائی سے متعلق جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اس کی شرائط، مدت اور عملی نفاذ سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔