قومی خبریں

ٹرمپ نے پھر بگاڑا ہندوستانی شیئر بازار کا حلیہ، سرمایہ کاروں کے 3 لاکھ کروڑ روپے ڈوبے

ایک طرف شیئر بازار میں زبردست گراوٹ درج کی گئی ہے، تو دوسری طرف خام تیل کی قیمت بھی 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔

شیئر بازار
شیئر بازار 

ہفتہ کے آخری کاروباری دن یعنی جمعہ کو شیئر بازار میں زبردست گراوٹ درج کی گئی ہے۔ خبر لکھے جانے تک بی ایس ای کا سنسیکس تقریباً 859 پوائنٹس اور این ایس ای کا نفٹی تقریباً 240 پوائنٹس گر کر کاروبار کرتا نظر آیا۔ شیئر بازار میں اس بھاری گراوٹ کے باعث صرف 50 منٹ میں سرمایہ کاروں کے 3 لاکھ کروڑ روپے تباہ ہو گئے۔ دراصل امریکہ نے ہندوستان اور 16 دیگر ممالک سے خریدی جانے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، کیونکہ ان اشیا کی تیاری میں جبریہ مزدوری کا استعمال کیا گیا تھا۔ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد شیئر بازار میں زبردست گراوٹ درج کی گئی ہے۔

ٹرمپ کے اس فیصلے کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے شیئر بازار میں زبردست گراوٹ کا ماحول دیکھنے کو ملا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے کمزور سہ ماہی نتائج ہوں یا پھر خام تیل کی بڑھتی قیمتیں۔ آئیے جانتے ہیں وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بازار میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

بازار میں زبردست گراوٹ کی 7 بڑی وجوہات

  1. ٹرمپ کا فیصلہ: ہندوستان اور 16 دیگر ممالک سے خریدی جانے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف

  2. خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز: برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہندوستان جیسے بڑے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے یہ مہنگائی اور تجارتی خسارے کی تشویش میں اضافہ کرتا ہے۔

  3. کمزور سہ ماہی نتائج: کچھ بڑی کمپنیوں، خاص طور پر انفوسس اور انڈیگو کے کمزور یا توقع سے کمزور نتائج اور مستقبل کے حوالے سے اندازوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کیا ہے۔

  4. روپے کی کمزوری: ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کمزور ہونے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھی اور بازار پر دباؤ آیا۔

  5. ایف آئی آئیز کی مسلسل فروخت: غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار (ایف آئی آئی) مسلسل ہندوستانی شیئروں کی فروخت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے بازار میں کمزوری برقرار ہے۔

  6. عالمی بازاروں سے کمزور اشارے: بین الاقوامی بازاروں میں خطرے سے بچنے کے رجحان کے باعث ہندوستانی بازار بھی دباؤ میں رہے۔

  7. امریکی فیڈ کی شرح سود کو لے کر تشویش: امریکی فیڈرل ریزرو کے سخت موقف اور ممکنہ شرح سود میں اضافے کے خدشے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں سے سرمایہ نکلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ایک طرف شیئر بازار میں زبردست گراوٹ درج کی گئی ہے، تو دوسری طرف خام تیل کی قیمت بھی 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔