
سپریم کورٹ نے راجستھان، کرناٹک، کیرالہ اور دہلی ہائی کورٹس میں ’ٹرانس جینڈر پرسنز ترمیمی ایکٹ 2026‘ کو چیلنج کرنے والی رِٹ عرضیوں پر جاری کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ یہ معاملہ ٹرانس جینڈر پرسنز ترمیمی قانون 2026 کو چیلنج کرنے سے متعلق ہے۔ یہاں مختلف ہائی کورٹس میں دائر درخواستوں کو دہلی ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کا مطالبہ کرنے والی مرکزی حکومت کی عرضیوں پر سماعت ہو رہی تھی۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ مرکز کے قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے، جس پر عدالت غور کر رہی ہے۔
Published: undefined
عدالت کے سامنے موجود درخواست گزاروں میں سے ایک نے کہا کہ میری درخواست سب سے تفصیلی ہے، میں خود ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر ہوں۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا کہ ہمیں یقیناً آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی۔ عرضی گزار نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ تمام معاملات پر ایک ساتھ غور کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یا تو ہم اسے کسی ایک ہائی کورٹ کو سونپ دیں گے، یا پھر الگ الگ رائے لینے کے بجائے ہم خود اس پر فیصلہ کریں گے۔
Published: undefined
تشار مہتا نے کہا کہ ’نالسا‘ کا ایک فیصلہ موجود ہے، اس لیے براہ کرم نوٹس جاری کریں۔ میں معزز ججوں کو اس معاملے کو 3 ججوں کی بنچ کے سامنے پیش کرنے کے لیے راضی کر سکتا ہوں۔ ہائی کورٹس کے لیے اس فیصلے کے برعکس کوئی رائے قائم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ ’نالسا‘ کے فیصلے کی بنیاد پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ترمیم نہ صرف آئین کے خلاف ہے، بلکہ اس کی کوئی طبی بنیاد بھی نہیں ہے۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کی بنچ نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے ڈاکٹر چندریش جین کا موقف بھی کچھ دیر سنا۔ ڈاکٹر جین نے دلیل دی کہ 2016 کی ترمیم غیر آئینی ہے کیونکہ یہ 2014 کے ’نالسا‘ فیصلے کو کمزور کرتی ہے، جس میں صنف کی خود تشخیصی شناخت کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ترمیم کی کوئی طبی بنیاد نہیں ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined