
سپریم کورٹ آف انڈیا
سپریم کورٹ نے ممتا بنرجی کی عرضی پر فوری سماعت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلی اور ٹی ایم سی لیڈر ممتا بنرجی کی عرضی کا ذکر کیا۔ مذکورہ عرضی میں پارٹی کے اندر چل رہے قیادت کے تنازعہ کے درمیان الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس میں ممتا بنرجی کے گروپ کو اصل ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ (ٹی ایم سی) کا نام اور پارٹی کے روایتی ’پھول اور گھاس‘ کے انتخابی نشان کا استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ سابق وزیر اعلی الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کپل سبل نے الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ اس کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے اس معاملے کو سماعت کے لیے لسٹ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی۔
واضح رہے کہ جمعہ کے روز ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن کے 17 ستمبر کے عبوری حکم میں دونوں گروپوں کو ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور پارٹی کے ’پھول اور گھاس‘ انتخابی نشان استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا اور اکتوبر میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے الگ الگ نام اور انتخابی نشان منتخب کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
ممتا بنرجی گروپ کو ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام اور ’فٹبال کھلاڑی‘ انتخابی نشان دیا گیا۔ وہیں رتبرت بنرجی-اروپ رائے گروپ کو ’ ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ نام اور ’لفافہ‘ انتخابی نشان ملا۔ ٹی ایم سی کے نام اور انتخابی نشان کو لے کر چل رہے تنازعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے دونوں گروپ کے لیے الگ الگ شناخت طے کر دی ہے۔ ٹی ایم سی کا نام اور انتخابی نشان تقریباً 3 دہائیوں سے مغربی بنگال کی سیاست میں اس کی شناخت ہے، لیکن اب پارٹی کے اندر اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کا نام اور انتخابی نشان دونوں کو ہی منجمد کر دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔