قومی خبریں

جب تک بدعنوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو برخاست نہیں کیا جاتا، پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں ہوگی: راہل گاندھی

دہلی یونیورسٹی کے ذریعہ طلبا و اساتذہ کو جنتر منتر مظاہرہ سے دور رہنے کی ہدایت پر راہل گاندھی نے سخت رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ ’’وقت آنے پر جوابدہ آپ ہی ہوں گے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p> راہل گاندھی</p></div>

راہل گاندھی

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج پارلیمنٹ احاطہ میں میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’جب تک بدعنوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو برخاست نہیں کیا جاتا، کوئی بحث نہیں ہوگی۔‘‘ یہ بیان انھوں نے لوک سبھا کی کارروائی 27 جولائی کی صبح 11 بجے تک ملتوی کیے جانے کے بعد دیا۔ آج لوک سبھا کی کارروائی پوری طرح ہنگامہ کی نذر ہو گئی۔ پہلے تو ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کی گئی، اور پھر جب 12 بجے کارروائی شروع ہوئی تو، تھوڑی ہی دیر بعد 27 جولائی کی صبح تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی جب ایوان زیریں کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد ایوان سے باہر نکلے تو نامہ نگاروں نے انھیں گھیر لیا۔ ان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’رجیجو جی نے مجھ سے بولا کہ اپنے اراکین پارلیمنٹ سے بحث ہونے دینے کے لیے کہیں۔ ایک عام پروٹوکول ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کا نام لیتا ہے، تو اس کو بولنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ جب میں جواب دینا چاہ رہا تھا تو مجھ سے مائک لے لیا گیا۔ مجھے کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔‘‘ اس کے بعد وہ جوڑتے ہیں کہ ’’میں صاف لفظوں میں کہنا چاہتا ہوں، اپوزیشن کے 3 مطالبات ہیں۔ بدعنوان وزیر تعلیم کو روانہ کیا جائے، طلبا پر ظلم کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو، اور وزیر اعظم طلبا سے معافی مانگیں۔‘‘ نامہ نگاروں سے ہوئی س گفتگو کی ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی ہے۔

طلبا پر ہوئے مظالم اور ان کے مطالبات سے متعلق کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی سخت رخ اختیار کیا ہے۔ سب سے پہلے تو انھوں نے راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھی۔ جب ایوان بالا میں ہنگامہ ہوا اور کارروائی ملتوی کر دی گئی، تو انھوں نے پارلیمنٹ احاطہ میں پرینکا گاندھی اور راجیو شکلا سمیت درجنوں اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس کی ویڈیو ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے کھڑگے نے لکھا ہے کہ ’’ہمیں انصاف چاہیے۔‘‘

دوسری طرف راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی کی ایک ایڈوائزری پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ دراصل جنتر منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے دور رہنے کی اپیل کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایسے اجتماعات میں شریک ہونے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ڈی یو کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف طلبا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کے تعلیمی ریکارڈ اور مستقبل کے پیشہ ورانہ کیریئر پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اسی ایڈوائزری پر راہل گاندھی نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

راہل گاندھی نے دہلی یونیورسٹی کے ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ہدایت کو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’آپ طلبا کو اپنے جمہوری حقوق استعمال کرنے پر دھمکانے کی جرأت کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘ دہلی یونیورسٹی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’براہ کرم یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وقت آنے پر جوابدہ آپ ہی ہوں گے۔‘‘