
ریزرو بینک آف انڈیا
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے مالی سال27- 2026 کے لیے اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کے جائزے میں ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ موقف اپنایا ہے۔ یہ فیصلہ بازار کی توقعات کے مطابق رہا اور 6 رکنی مانیٹری پالیسی کمیٹی(ایم پی سی) نے دو دن کے غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر اسے منظور کیا۔ آر بی آئی کے فیصلے کا مقصد موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
Published: undefined
پالیسی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ بینک ریٹ اور مارجنل اسٹینڈنگ فیسیلٹی (ایم ایس ایف) کی شرح کو 5.50 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے جبکہ اسٹینڈنگ ڈپازٹ فیسیلٹی (ایس ڈی ایف) کی شرح بھی 5.00 فیصد پر برقرار ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب عالمی سطح پر معاشی حالات بدستور چیلنجنگ بنے ہوئے ہیں۔ آر بی آئی کے گورنر نے 2025 کو ایک چیلنجنگ سال قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ اکتوبر کی پالیسی کے بعد سے افراط زر میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بینکاری نظام کی بہتر کارکردگی کو معیشت کے لیے کلیدی معاونت قرار دیا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ یہ اعلان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی بازٓروں میں مثبت ماحول پیدا ہوا اور ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ آر بی آئی کے گورنر نے کہا کہ ہندوستان کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو رواں مالی سال میں 6.9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، خاص طور پر مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خام تیل کی اونچی قیمتیں، ہندوستان کی شرح نمو پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی عوامل ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم خطرات ہیں۔
Published: undefined
ملہوترا نے یہ بھی کہا کہ عالمی معیشت کو اس وقت بے مثال چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سپلائی فریق کی رکاوٹیں اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ تاہم انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی اقتصادی بنیادیں مضبوط ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم اور لچکدار ہے۔
Published: undefined
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مہنگائی اس وقت قابو میں ہے لیکن اس میں اضافے کا خطرہ برقرار ہے۔ موسم کی غیر یقینی صورتحال خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ خام تیل کی اونچی قیمتیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھا سکتی ہیں۔ ان حالات میں آر بی آئی نے فی الحال ’ انتظار کرو اور دیکھو‘ کی حکمت عملی اپنانا مناسب سمجھا ہے۔ آر بی آئی کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں شرح سود میں جلد بازی میں تبدیلی کرنے کے بجائے صورتحال کا اندازہ لگانا زیادہ سمجھداری بھرا قدم ہے۔ مرکزی بینک نے متوازن انداز اپنایا ہے، ایک طرف افراط زر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے اور دوسری طرف معاشی ترقی کو سہارا دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined