
اندور میں ’چھاتروں کی گونج‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی ان دنوں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے ذریعے طلبہ اور نوجوانوں سے مکالمہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ 19 ستمبر کو مدھیہ پردیش کے اندور پہنچے، جہاں انہوں نے طلبہ سے بات چیت کی اور ان کی تعلیم، ہاسٹل، روزگار اور مسابقتی امتحانات سے متعلق مسائل سنے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اندور میں مکالمے کے دوران ایک طالبہ نے ان سے ہاسٹل اور رہائش کے مسئلے کو لے کر سوال کیا۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اتوار (20 ستمبر) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس سوال کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب مانگا۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں طالبہ کا سوال لکھا کہ ’’سرکار کے پاس دیا جلانے کے لیے پیسہ ہے، ہمارے ہاسٹل کے لیے کیوں نہیں؟‘‘ ان کے مطابق یہ سوال کل اندور میں ایک طالبہ نے مجھ سے پوچھا۔ گاؤں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہر آئی طالبہ نے کہا کہ ہاسٹل نہیں ہے، تو پی جی میں رہنا پڑتا ہے۔ صرف محفوظ جگہ پر رہنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ ہر ماہ کرایے کی فکر اور بے گھر ہونے کا خوف رہتا ہے، اسی میں تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ کئی لڑکیاں اسی وجہ سے تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔ صرف اس لیے کہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ رہائشی الاؤنس مہنگائی کے ساتھ نہیں بڑھتا اور اوپر سے بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔
راہل گاندھی نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں وزیر اعظم مودی سے اس سوال کا جواب مانگتے ہوئے کہا کہ کیا اس بچی کے سوال کا کوئی جواب ہے؟ اندور میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے قبل راہل گاندھی کوٹا، پونے، پریاگ راج اور دہرادون میں طلبہ سے بات کر چکے ہیں۔ ایک دیگر ’ایکس‘ پوسٹ میں ہفتہ کو راہل گاندھی نے لکھا تھا کہ ’’ملک پر ایک سسٹم نے تہہ در تہہ قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ سسٹم آخر ہے کیا؟ آر ایس ایس اور ’ہم دو، ہمارے دو‘ کی قیادت میں گنے چنے لوگوں نے مل کر ہندوستان کے ہر ادارے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ حکومت ہو، کاروبار ہو، تعلیم ہو، صحت ہو، کھیل ہو، میڈیا ہو، عدلیہ ہو، الیکشن کمیشن ہو یا بیوروکریسی، اس سسٹم میں ہنر نہیں بلکہ پیسہ اور پہنچ اہمیت رکھتی ہے۔‘‘
راہل گاندھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس قبضے کے خلاف، بدعنوانی کے خلاف اور ناانصافی کے خلاف طلبہ کی آواز ہی اس سسٹم کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اسی لیے سسٹم کو طلبہ سے خطرہ ہے، کیونکہ وہ سوال پوچھتے ہیں اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسی خوف کی وجہ سے سسٹم طالب علم نہیں بلکہ اندھ بھکت چاہتا ہے، طلبہ کو ہراساں کرتا ہے اور اندھ بھکتی کو فروغ دیتا ہے، تاکہ کوئی سوال نہ اٹھائے اور منمانی چلتی رہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔