ای وی ایم اور الیکٹورل افسران، تصویر @DCkhunti
ملک کی 4 ریاستوں مغربی بنگال، تمل ناڈو، آسام اور پڈوچیری میں 6 اکتوبر کو ہوئے 5 اسمبلی نشستوں اور ایک لوک سبھا نشست کے ضمنی انتخابات کے نتائج آج آنے والے ہیں۔ واضح رہے کہ ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے سے شروع ہو چکی ہے اور ایسا مانا جا رہا ہے کہ مختلف ریاستوں میں بدلتے سیاسی مساوات کے درمیان ان انتخابات کے نتائج سیاسی پارٹیوں کے لیے اہم اشارے دے سکتے ہیں۔
مغربی بنگال کی نندی گرام اور ریجی نگر اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے ریاست کے موجودہ سیاسی رجحان کا اندازہ ملنے کا امکان ہے، جہاں بی جے پی نے 15 سال سے اقتدار میں رہی ترنمول کانگریس کو ہٹا کر حکومت بنائی ہے۔ منگل (6 اکتوبر) کو ہوئے دونوں ضمنی انتخابات اگرچہ 4 ماہ پرانی بی جے پی حکومت پر عوامی رائے شماری نہیں ہیں، لیکن اپوزیشن سے اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی کی انتخابی طاقت کا اندازہ لگانے اور اپوزیشن خیمے کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ان نتائج پر گہری نظر رکھی جائے گی۔
نندی گرام کی سیاسی اہمیت
نندی گرام کی سیاسی اہمیت پہلے سے ہی کافی زیادہ رہی ہے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں سویندو ادھیکاری نے اس نشست پر ممتا بنرجی کو شکست دی تھی۔ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بھی سویندو ادھیکاری نے نندی گرام سے جیت درج کی، لیکن بھوانی پور نشست اپنے پاس رکھنے کی وجہ سے نندی گرام کی نشست خالی ہو گئی اور یہاں ضمنی انتخاب کرانا پڑا۔ ریجی نگر میں پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد عام جنتا انّین پارٹی کے سربراہ ہمایوں کبیر کو گرفتار کر لیا گیا۔ وہیں کانگریس نے دونوں اسمبلی حلقوں میں دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔ یہاں عام جنتا انّین پارٹی کے سربراہ ہمایوں کبیر کے بیٹے غلام نبی آزاد انتخابی میدان میں ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، دونوں انتخابی حلقوں کے تقریباً 5.24 لاکھ ووٹرز میں سے تقریباً 80 فیصد نے ووٹ ڈالے۔ نندی گرام میں 80.89 فیصد اور ریجی نگر میں 80.08 فیصد پولنگ درج کی گئی۔ تاہم، ووٹنگ کے دوران ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے، بوتھ کی سطح پر بے ضابطگیوں اور کہیں کہیں تصادم کے الزامات بھی لگائے گئے۔
تمل ناڈو میں ٹی وی کے کا پہلا بڑا امتحان
تمل ناڈو میں مدورانتکم اور دھاراپورم اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جمعہ کو 3 سطحی حفاظتی حصار کے درمیان کی جائے گی۔ مئی میں ٹی وی کے کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوئے ان اہم ضمنی انتخابات کو اس کی مقبولیت کا امتحان مانا جا رہا ہے، جبکہ اپوزیشن پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے کو امید ہے کہ وہ اپریل کے اسمبلی انتخابات میں ٹی وی کے سے ہاری ہوئی نشستیں دوبارہ حاصل کر لے گی۔
ووٹوں کی گنتی تروپور ضلع کے دھاراپورم میں واقع ایل آر جی گورنمنٹ آرٹس اینڈ سائنس کالج اور مدورانتکم کے لیے چنگل پٹو ضلع کے آتھور میں واقع انٹیگریٹیڈ سوشل ڈیولپمنٹ ٹریننگ سینٹر میں ہوگی۔ دھاراپورم کے گنتی مرکز میں ای وی ایم کے ووٹوں کی گنتی کے لیے 14 میزیں اور پوسٹل بیلٹ کی کارروائی کے لیے 2 میزیں لگائی گئی ہیں۔ مدورانتکم میں بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ شفاف طریقے سے گنتی کو یقینی بنانے کے لیے دونوں مراکز پر 3 سطحی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
آسام کی ناگاؤں نشست پر سخت مقابلہ
آسام کی ناگاؤں لوک سبھا نشست پر بی جے پی، کانگریس اور اے آئی یو ڈی ایف کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ بی جے پی نے سابق نوکرشاہ دیواشییش شرما کو امیدوار بنایا ہے، جبکہ کانگریس کی جانب سے سابق رکن اسمبلی شیو منی بورا اور اے آئی یو ڈی ایف کی جانب سے پارٹی سربراہ بدرالدین اجمل انتخابی میدان میں ہیں۔ ناگاؤں میں تقریباً 76 فیصد ووٹرز نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پردیوت بوردولوئی کے اسمبلی انتخابات لڑنے اور جیتنے کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔