
فائل تصویر آئی اے این ایس
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کی قیادت کا فیصلہ وہاں کے عوام کریں گے۔ حالانکہ انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر روس 60 دنوں کی جنگ بندی پر رضامند ہو جاتا ہے تو کیف میں انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ ہفتے کے روز ٹرمپ نے روس کی تیل ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں کو لے کر زیلنسکی پر تنقید کی اور کہا کہ ان حملوں کی وجہ سے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زیلنسکی کی جگہ کسی ایسے رہنما کو آنا چاہیے جو جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے پر تیار ہو۔
اتوار کے روز ’اے بی سی نیوز‘ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ سب سے پہلے صدر ٹرمپ کا پورا احترام کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کسی رہنما کا انتخاب کرنا ہمارے معاشرے اور ہمارے عوام کا کام ہے۔ انتخابات کرانے کے ٹرمپ کے مطالبے پر زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر کی ٹیم سے ماسکو کے ذریعہ عارضی جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے ٹرمپ کی ٹیم سے کہا تھا کہ براہ کرم پوتن سے کہیں کہ وہ ہمیں 2 ماہ کا وقت دیں۔ 60 دنوں کی مکمل جنگ بندی ہو جائے تو ہم انتخابات کرا لیں گے۔
روسی تیل پر عائد پابندیوں میں کچھ وقت کے لیے نرمی برتنے کی وجہ سے ٹرمپ کے فیصلے پر یوکرین، یورپ میں امریکہ کے کئی اتحادیوں اور خود ان کی ریپبلکن پارٹی کے بعض ارکان نے بھی تنقید کی ہے۔ زیلنسکی نے امریکہ کی مسلسل حمایت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس تازہ اختلاف سے یوکرین کے اتحادیوں کے درمیان اتحاد کمزور نہیں ہوگا۔ انہوں نے اے بی سی نیوز سے کہا کہ پوتن کو روکنے کے لیے، اور میرے خیال میں یہی بنیادی مقصد ہے، انہیں روکنا اور اس جنگ کو ختم کرنا، ہم امریکی حمایت پر بھروسہ کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ظاہر ہے کہ ہم اپنے یورپی اتحادیوں پر بھی بھروسہ کرتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ ہم اس اتحاد کو برقرار رکھیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس طرح کا اتحاد برقرار رکھنا واقعی آسان نہیں ہے۔ زیلنسکی نے یہ بھی دہرایا کہ اگر روس بھی ایسا ہی کرتا ہے تو یوکرین جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔ اس میں توانائی سے متعلق بنیادی ڈھانچے تک محدود جنگ بندی بھی شامل ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔