
پی ایم مودی اور شی جنپنگ، تصویر ’ایکس‘ @Kharge
آئی ٹی بی پی ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور کے ذریعہ اروناچل پردیش میں ہند-چین افواج کے تصادم سے متعلق بیان کے بعد کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کر لیا ہے۔ پہلے کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس معاملہ میں مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور آب کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کچھ پوسٹس جاری کی ہیں، جن میں وزیر اعظم مودی کو نشانے پر لیا گیا ہے۔
کانگریس نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں آئی ٹی بی پی ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کا وہ بیان پیش کیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’چین بہت آگے نکل گیا ہے۔ چین کا مقابلہ روایتی طریقے سے کرنا مشکل ہے۔‘‘ یہ بیان پیش کرنے کے بعد کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’12 سالوں میں مودی حکومت نے منظم طریقے سے ہماری افواج کو کمزور کیا۔ سرمایہ کاری نہیں کی گئی، ماڈرنائزیشن پر توجہ نہیں دی گئی۔ فوج کو کمزور کرنے کے لیے اگنی ویر جیسی فرضی اسکیمیں لائیں۔‘‘
پارٹی نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب افواج کو وزیر اعظم اور حکومت سے حوصلہ افزائی کی درکار تھی، تب مودی چین کو ’کلین چٹ‘ دیتے رہے، چینی صدر کا استقبال کرتے رہے۔ اس پوسٹ میں کانگریس نے وزیر اعظم پر الزام عائد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’مودی نے ملک اور فوج کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔‘‘
ایک دیگر پوسٹ میں کانگریس نے آئی ٹی بی پی جنرل سکریٹری وہ بیان پیش کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’گزشتہ کچھ وقت سے اروناچل کے کئی جگہوں پر چینی افواج کے ساتھ تصادم ہوا، جو اب بھی جاری ہے۔‘‘ آگے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’رواں سال جولائی سے ہی چینی افواج کے ساتھ تصادم کی خبریں آ رہی ہیں، لیکن مودی حکومت ان خبروں کو دبانے میں لگی رہی۔ یہاں تک کہ چین کو ’لال آنکھ‘ دکھانے کی جگہ نریندر مودی چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ ہنسی ٹھٹھولی کرتے نظر آئے... برکس اجلاس میں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ’’سوچیے، ایک طرف چین ہمارے فوجیوں کے ساتھ تصادم کر رہا تھا، دوسری طرف مودی چینی صدر کا استقبال کر رہے تھے۔ یہ ہمارے فوجیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔‘‘
وزیر اعظم مودی پر تلخ انداز میں حملہ کرتے ہوئے کانگریس نے یہاں تک لکھا ہے کہ ’’مودی نے ہر بار ہمارے فوجیوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے، ملک کے ساتھ غداری کی ہے، ذمہ داری سے پلہ جھاڑ لیا۔ کبھی چین کو کلین چٹ دیتے ہیں، تو کبھی پٹرولنگ پوائنٹ سے قبضہ چھوڑ کر ملک کی زمین۔‘‘ آخر میں پارٹی یہ بھی لکھتی ہے کہ ’’اس کمزور وزیر اعظم نے ملک کا بہت نقصان کر دیا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔