ویڈیو گریب
ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ میں ان دنوں کمرشیل ایل پی جی کی شدید قلت دیکھی جا رہی ہے، جس کا اثر اب عام زندگی کے ساتھ ساتھ اسمبلی کی کارروائیوں پر بھی پڑنے لگا ہے۔ حالات اتنے سنگین ہو گئے ہیں کہ گیس سلنڈروں کی کمی کی وجہ سے اسمبلی کے لیے تیار ہونے والا کھانا بھی اب لکڑی کے چولہوں پر بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ریاست کے انتظامی نظام کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔
Published: undefined
رپورٹس کے مطابق اسمبلی سیشن کے دوران روزانہ سینکڑوں افراد کے لیے کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن کمرشیل سلنڈروں کی سپلائی رکنے کی وجہ سے باورچیوں کو روایتی طریقوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ ہماچل پردیش ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایچ پی ٹی ڈی سی) کے ہوٹلوں میں خاص طور پر ’ہالیڈے ہوم‘ اور ’پیٹر ہاف‘ میں روزانہ تقریباً 800 لوگوں کا کھانا لکڑیوں پر پکایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ملازمین کو بھی اضافی محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ ہوٹل کے عملے کا کہنا ہے کہ گیس کی کمی کے باوجود وقت پر کھانا تیار کرنا ان کی ذمہ داری ہے، جسے اب لکڑی کے چولہوں پر پورا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے کام کی رفتار بھی متاثر ہو رہی ہے اور باورچیوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب ایل پی جی بحران کا اثر شہر کے دیگر ہوٹل اور ڈھابہ مالکان پر بھی صاف طور پر نظر آ رہا ہے۔ کئی جگہوں پر مٹی کے چولہوں اور لکڑیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ مالکان انڈکشن اور ہیٹر کی مدد سے کام چلا رہے ہیں۔ گیس کی کمی کے باعث کئی ڈھابوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے اور کچھ کو عارضی طورپر بند کرنا پڑا ہے۔ یہ صورتحال انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined