قومی خبریں

’شکست کے بعد منعقدہ پہلی میٹنگ میں ہی بغاوت کی رکھ دی گئی تھی بنیاد‘، ٹی ایم سی سے نکالے گئے سندیپن ساہا کا اہم انکشاف

سندیپن ساہا کے مطابق جب وہ پارٹی میٹنگ میں شامل ہوئے تو تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت جاری کی گئی کہ ابھیشیک بنرجی کے بارے میں کوئی بھی تنقیدی لفظ کہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>

ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی / آئی اے این ایس

 
IANS

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اپنا وجود بچانے کا چیلنج درپیش ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹی ایم سی کے 80 اراکین اسمبلی  میں سے 60 نے پارٹی سے بغاوت کر دی ہے۔ بنگال انتخاب میں ملنے والی شکست کے بعد اراکین اسمبلی کی بغاوت کی آخر کیا وجہ رہی، اس کا انکشاف اب پارٹی سے نکالے گئے لیڈر سندیپن ساہا نے کر دیا ہے۔ سندیپن ساہا نے بتایا کہ ٹی ایم سی میں باقاعدہ طور پر بغاوت کی بنیاد انتخابی نتائج آنے کے بعد 6 مئی کو ہونے والی پارٹی میٹنگ میں ہی پڑ گئی تھی۔ انہوں نے پارٹی کے اندرونی طریقۂ کار اور قیادت پر سنگین سوالات اٹھائے۔

Published: undefined

ٹی ایم سی سے نکالے گئے رکن اسمبلی سندیپن ساہا نے بتایا کہ اس پورے واقعہ کا ’ٹریگر پوائنٹ‘ انتخاب میں پارٹی کی شکست کے بعد آیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ پارٹی کی میٹنگ میں شامل ہوئے تو تمام اراکین اسمبلی کو ہدایت جاری کی گئی کہ ابھیشیک بنرجی کے بارے میں کوئی بھی تنقیدی لفظ کہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس کے بجائے انہیں ہدایت دی گئی کہ ابھیشیک بنرجی نے غیر معمولی طور پر شاندار کاکردگی کیا ہے اور سب کو کھڑے ہو کر تالیاں بجانی ہوں گی۔ اس میں ایسے اراکین اسمبلی بھی شامل تھے جو تب سے اسمبلی میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جب شاید ابھیشیک بنرجی اسکول میں پڑھ رہے تھے۔ انہیں بھی کھڑے ہو کر تالیاں بجانے پر مجبور کیا گیا۔‘‘

Published: undefined

سندیپن ساہا نے مزید کہا کہ ’’فطری طور پر ایسے واقعات دل میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ آج جب لوگوں کو اس رویے کو خارج کرنے کا موقع ملا ہے تو وہ بالکل وہی کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے پارٹی کے 60 باغی اراکین اسمبلی کے متعلق کہا کہ کچھ ایسے اراکین اسمبلی تھے جو اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے وقت موجود نہیں تھے، لیکن ان کے نام جلی حروف میں درج کر دیے گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اگر اسے اخلاقیات کے نظریہ سے دیکھا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ جب آپ کے پاس پہلے سے ہی ضروری تعداد تھی تب بھی آپ نے اپنے اس طرح کا طریقۂ کار کیوں اپنایا۔ اس سے ہم تمام کے دلوں میں شک پیدا ہوا۔‘‘ سندیپن کے مطابق جب انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس پر اعتراض کیا تو اسپیکر کو ایک باضابطہ خط سونپا گیا۔ اس کے بعد اسپیکر نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔

Published: undefined

ٹی ایم سی سے نکالے گئے سندیپن ساہا نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’جیسے ہی تحقیقات شروع ہوئی ایسے ثبوت سامنے آنے لگے جو ان الزامات کی تصدیق کرتے تھے۔ اس کے بعد دیگر اراکین اسمبلی بھی ہم سے رابطہ کرنے لگے۔ باہمی مشورے کے بعد باغی اراکین اسمبلی نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر انہیں اسمبلی کے اندر مؤثر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اور اپنے اپنے انتخابی حلقوں کے لوگوں کی خدمت کرنی ہے تو انہیں ایک الگ گروپ بنانا ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے یہ بھی طے کیا کہ یہ گروپ مرکزی اپوزیشن کے طور پر کام کرے گا اور اپوزیشن کے لیڈر کا انتخاب بھی اسی گروپ کے اندر سے کیا جائے گا، تاکہ ہم اسمبلی میں اپنا کردار پوری سنجیدگی اور اثر انگیزی کے ساتھ ادا کر سکیں۔‘‘

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined