قومی خبریں

’سازش بہت گہری ہے، اطمینان سے سمجھیے‘، مرکزی وزیر للن سنگھ کے ’آدھار‘ والے بیان پر راہل گاندھی کا اظہارِ تشویش

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ ایک غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، لیکن اب وہ مودی حکومت کے ملازم گیانیش کمار کے ہاتھ میں ہے، جس کی ووٹ چوری ہم نے ثبوت کے ساتھ پکڑی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>

راہل گاندھی / ویڈیو گریب

 

مرکزی وزیر للن سنگھ کا وہ بیان سرخیوں میں ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ جلد ہی فلاحی منصوبوں کے تحت رقم ادا کرنے کے لیے آدھار کی جگہ ووٹر شناختی کارڈ اور بایومیٹرک کا استعمال کیا جائے گا۔ اس معاملہ میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، اب لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’مودی حکومت کے وزیر کا اعلان کہ منصوبوں کا فائدہ اب آدھار سے نہیں، ووٹر آئی ڈی سے طے ہوگا، یہ بہت گہری سازش ہے۔ اس کو ذرا اطمینان سے سمجھیے۔‘‘

یہ بیان راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے، اور آگے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ایس آئی آر کے نام پر کروڑوں نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا رہے ہیں۔ اس عمل کو روکا نہیں گیا تو مزید ووٹ کاٹے جائیں گے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ حذف کیے جانے والے بیشتر نام ان کے ہوں گے جو بی جے پی کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ’’ووٹر لسٹ ایک غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، لیکن اب وہ مودی حکومت کے ملازم گیانیش کمار کے ہاتھ میں ہے، جس کی بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت میں ووٹ چوری ہم نے ثبوت کے ساتھ پکڑی ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ایسی ووٹر لسٹ تیار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، جس میں اکثریت ہمیشہ بی جے پی کی ہو، اور اب وہی لسٹ طے کرے گی کہ آپ کو منصوبہ کا پیسہ ملے گا یا نہیں۔ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’کل جس نے بھی یہ عزم کیا کہ بی جے پی کو ہٹانا ہے، ان سب کا نام چن چن کر کاٹا جائے گا۔ نام کٹا تو ووٹ گیا، ووٹ گیا تو پھر حق بھی گیا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے آپ ایک یرغمال جمہوریت کے ’نظر نہ آنے والے‘ شہری بن جائیں گے۔ ایسے ماحول میں عوام حکومت منتخب نہیں کرے گی، بلکہ حکومت منتخب کرے گی کہ اس کی عوام کون ہے۔

راہل گاندھی نے آدھار کو ختم کر ووٹر شناختی کارڈ کو فلاحی منصوبوں کی بنیاد بنانے کو گہری سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج پنچایتی راج کے منصوبوں سے نام کٹیں گے، کل راشن، پنشن، منریگا، رہائش، اسکالرشپ، ریزرویشن پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ کانگریس لیڈر نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ ’’یہ انتخاب جیتنے کی سیاست نہیں، انتخاب چوری کرنے کا انتظام اور اقتدار میں بنے رہنے کا مستقل بندوبست ہے۔‘‘ عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ووٹ دینا آپ کا حق ہے، شرط نہیں۔ کسی غریب کی پنشن اس کے ووٹر کارڈ کی غلام نہیں ہو سکتی۔‘‘ اپنی پوسٹ کے آخر میں وہ پورے عزم کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ’’یہ صرف ووٹ چوری نہیں، یہ حق چوری ہے۔ ہم یہ ہونے نہیں دیں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔