
پی ایم مودی اور امت شاہ، گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا باضابطہ طور پر اختتام ابھی تک نہیں ہوا ہے، اور اس معاملہ میں کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے آج خاص طور سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وزیر داخلہ اب بھی اس خیال پر غور کر رہے ہیں کہ لوک سبھا میں 2 تہائی اکثریت کے ساتھ حد بندی سے متعلق بل منظور کرانے کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’ان بلوں کے مندرجات کے بارے میں اب تک کچھ معلوم نہیں ہے، حالانکہ ان کا مقصد واضح ہے۔ وہ 2029 میں سامنے آنے والی شکست سے بی جے پی کو بچانا چاہتے ہیں۔‘‘
اپنی اس پوسٹ میں جئے رام رمیش نے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد 82 دن گزرنے کے باوجود اب تک اجلاس باضابطہ طور پر ختم نہیں کیے جانے کے پیچھے کی کچھ اہم وجوہات شمار بھی کرائی ہیں۔ مذکورہ بالا وجہ کا ذکر کرنے کے بعد وہ دیگر وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’خود ساختہ چانکیہ، جو دھوکہ دینے، بلند بانگ دعوے کرنے اور شور مچانے میں مہارت رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ ووٹ چوری پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کو تیار ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ’’گزشتہ سال جب اپوزیشن کی سبھی پارٹیوں نے مل کر ایس آئی آر پر بحث کا مطالبہ کیا تھا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ ایس آئی آر الیکشن کمیشن کا دائرۂ اختیار ہے۔‘‘
اس معاملے میں کانگریس جنرل سکریٹری مودی حکومت کے سامنے خاص مطالبہ بھی پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر وزیر داخلہ ’ووٹ چوری‘ پر خصوصی اجلاس طلب کرنے کے معاملے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے خاص کارندے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ یقینی بنانا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مودی حکومت کو ایس آئی آر کا عمل بھی معطل کرنا چاہیے۔
حد بندی معاملہ پر جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس یونہی نہیں بلا لینا چاہیے، بلکہ اس کے لیے کچھ باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یقیناً انہیں (وزیر داخلہ) حد بندی سے متعلق اپنی نئی تجاویز بھی اپوزیشن کے ساتھ کافی پہلے ہی شیئر کرنی چاہئیں۔ آخر ان میں اتنی ہمت کیوں نہیں ہے کہ وہ ان تجاویز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کے لیے کل جماعتی میٹنگ طلب کریں؟‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔