قومی خبریں

بی جے پی نے ملک کی معیشت کو برباد کر دیا، آج ملک کا ہر شہری پریشان ہے: کانگریس

گوہل نے کہا کہ ’’جب کانگریس حکومت میں خام تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تھی تب بھی خالص ملنے والا پٹرول یا ڈیزل اتنا مہنگا نہیں تھا، لیکن آج ایتھنول اور مکسنگ والا پٹرول اور ڈیزل اتنا مہنگا کیوں ہے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>شکتی سنگھ گوہل (ویڈیو گریب)</p></div>

شکتی سنگھ گوہل (ویڈیو گریب)

 

ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر کانگریس نے ایک بار پھر مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کے قومی ترجمان اور سابق رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی نے ملک کی معیشت کو برباد کر دیا ہے۔ آج ملک کا ہر شہری پریشان ہے، خواہ وہ نوجوان ہو، کسان ہو یا چھوٹا کاروباری ہو۔ روزانہ قرض کے بوجھ تلے کسان اور نوجوان خودکشی کر رہے ہیں۔ آج ملک میں ایسی صورتحال اس لیے بنی ہوئی ہے کیونکہ بی جے پی حکومت صرف ’کرونی کیپیٹلزم‘ میں یقین رکھتی ہے۔ آج ملک میں لاکھوں آسامیاں خالی پڑی ہیں، لیکن ان پر بھرتیاں نہیں کی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ویکنسی نکلتی بھی ہے تو اس میں پیپر لیک ہو جاتا ہے اور حکومت کے چٹے بٹے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس کے دوران شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ ’’1991 میں جب کانگریس کی حکومت بنی اس سے قبل ملک کی معیشت انتہائی بحران میں تھی۔ ملک کا سونا باہر گروی تھا۔ ہماری حکومت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر خزانہ تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایف آئی آئی (فارن انسٹی ٹیوشنل انویسٹر) کو ہندوستانی بازار میں آنے کا راستہ دیا۔ اس سے ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ آنے لگا اور معیشت کو مضبوطی ملی۔ لیکن آج بی جے پی حکومت میں غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں۔ اس بارے میں نریندر مودی کو جواب دینا چاہیے۔‘‘

شکتی سنگھ گوہل نے مزید کہا کہ ’’2004 میں جب ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے اور سونیا گاندھی یو پی اے کی چیئرپرسن بنیں تب انہوں نے متوسط طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا۔ شیئر مارکیٹ میں جو متوسط طبقہ پیسہ لگاتا تھا، جس سے اسے لانگ ٹرم کیپیٹل گین ہوتا تھا، یو پی اے حکومت نے اس پر ٹیکس کو صفر کر دیا تھا۔ اس وقت صرف ایک بار لگنے والا ایس ٹی ٹی (سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس) لاگو کیا گیا تھا۔ لیکن بی جے پی حکومت آئی تو انہوں نے ڈبل ٹیکس لاگو کر دیا۔‘‘ ان کے مطابق اب حالات یہ ہیں کہ آپ شیئر خریدیں تو ایس ٹی ٹی ٹیکس دیں، پھر اسے 6، 10 یا 12 مہینے میں فروخت کرتے ہیں تو آپ کو شارٹ ٹرم کیپیٹل گین (ایس ٹی سی جی) پر 20 فیصد ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ شیئر مارکیٹ میں جس لانگ ٹرم کیپیٹل گین پر کانگریس نے ٹیکس صفر کیا تھا، اسے مودی حکومت نے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت کا فنڈا ہے کہ متوسط طبقہ کسی بھی طرح سے تھوڑا بہت پیسہ کمائے تو اس سے ٹیکس کے ذریعہ پیسے اینٹھ لو اور اپنے صنعت کار دوستوں کو مالا مال کر دو۔‘‘

کانگریس لیڈر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت نے شیئر بازار کو لے کر بڑے بڑے دعوے کیے۔ لوگوں سے کہا گیا کہ شیئر مارکیٹ میں پیسہ لگائیے، جتنا ہو سکے سرمایہ کاری کیجیے۔ عوام نے ان دعووں پر بھروسہ کیا اور اپنا پیسہ شیئر بازار میں لگا دیا۔ جس نے انہوں نے کہا تھا کہ شیئر مارکیٹ اوپر جائے گا اس دن سینسیکس 85836 پر تھا، لیکن 29 ستمبر 2026 کو سینسیکس گر کر 72500 کے قریب پہنچ گیا۔ مطلب عوام نے جو سرمایہ لگایا تھا، اس کی قیمت گر گئی اور اوپر سے ٹیکس بھی دینا پڑا۔ دوسری جانب منموہن سنگھ جب وزیر اعظم تھے اور سونیا گاندھی یو پی اے کی چیئرپرسن تھیں تو پوری دنیا میں کسادبازاری آئی تھی، لیکن انہوں نے اس کا اثر ہندوستان پر نہیں پڑنے دیا۔ یو پے اے کی مدت کار میں دنیا میں کسادبازاری رہنے کے باوجود سینسیکس میں تقریباً 398 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔‘‘

سابق رکن پارلیمنٹ نے پریس کانفرنس کے دوران حکومت سے کئی سوال بھی پوچھے۔ روپیہ کمزور ہو کر فی ڈالر 100 سے کے قریب پہنچ رہا ہے، ایسے حالات میں مودی خاموش کیوں ہیں؟ فارن انسٹی ٹیوشنل انویسٹر ہمارے ملک کی مارکیٹ سے روزانہ پیسے نکال کر کیوں بھاگ رہے ہیں؟ 2026 میں مسلسل 9 مہینے تک فارن انسٹی ٹیوشنل انویسٹر میں بکوالی اور مائنس ٹرینڈ کی صورتحال بنی رہی، ایس کبھی نہیں ہوا تو اب کیوں ہو رہا ہے؟ جب کانگریس حکومت میں خام تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تھی تب بھی خالص ملنے والا پٹرول یا ڈیزل اتنا مہنگا نہیں تھا، لیکن آج ایتھنول اور مکسنگ والا پٹرول اور ڈیزل اتنا مہنگا کیوں ہے؟ نریندر مودی نے 2024 میں کہا تھا کہ ’شیئر مارکیٹ میں پیسے لگاؤ‘، لیکن ان کی باتیں مان کر پیسہ لگانے کو کافی خسارہ ہوا ہے، اس کی ذمہ داری کون لے گا؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔