قومی خبریں

بی جے پی نے گیانیش کمار گپتا کو چیف الیکشن کمشنر بنایا تاکہ الیکشن کمیشن کو اندر سے کھوکھلا کیا جا سکے: پون کھیڑا

پون کھیڑا نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’گپتا مودی دور کے سب سے زیادہ بکے ہوئے بیوروکریٹ ہیں، جنہوں نے کروڑوں ہندوستانیوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا ہے، اور انہیں قانون کا سامنا کرنا ہی ہوگا‘‘

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا / تصویر قومی آواز / ویپن</p></div>

پون کھیڑا / تصویر قومی آواز / ویپن

 

ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ طور پر سامنے آئے اختلاف نے اب سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ ایسے مواقع آئے جب 3 رکنی کمیشن کے 2 الیکشن کمشنرز، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے کمیشن کے بعض فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ طور پر اعتراض درج کرایا۔ اس پر کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’گیانیش کمار گپتا ایک دیمک کی طرح ہیں، جنہیں بی جے پی پال رہی ہے اور تحفظ دے رہی ہے تاکہ وہ اندر سے ہندوستان کے الیکشن کمیشن کو کھوکھلا کر سکیں۔‘‘

پون کھیڑا اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ یہ پہلے ہی معلوم تھا کہ الیکشن کمیشن کے اندر حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں۔ لیکن حالات کتنے بدنظمی کا شکار، غیر فعال اور، سچ کہوں تو، تشویش ناک ہو چکے تھے، اس کا انکشاف ’انڈین ایکسپریس‘ کی اس شاندار تحقیقاتی رپورٹ سے ہوتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ کہ ’’ ذرا سوچیے کہ اس کا کیا مطلب ہے، گیانیش کمار گپتا ایک ایسے ادارے پر غیر معمولی کنٹرول رکھتے ہیں، جسے الیکشن کمشنروں کو اجتماعی طور پر چلانا ہوتا ہے۔ اس عمل میں انہوں نے بی جے پی کے کہنے پر اکیلے ہی ہندوستان کے انتخابی عمل کی سالمیت کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘ ان کے مطابق گپتا مودی دور کے سب سے زیادہ بکے ہوئے بیوروکریٹ ہیں، جنہوں نے کروڑوں ہندوستانیوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا ہے، اور انہیں قانون کا سامنا کرنا ہی ہوگا۔

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’یہ ایک انتہائی سنگین خبر ہے کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران 2 الیکشن کمشنروں نے الیکشن کمیشن کے غلط فیصلوں پر 14 مرتبہ اپنی ناراضگی درج کرائی ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تمام الیکشن کمشنر اپنا کام درست طریقے سے نہیں کر پا رہے ہیں۔ اگر کسی خودمختار ادارے کے ارکان کو منصفانہ کام کرنے کی آزادی نہیں ہے یا ان کی بات نہیں سنی جاتی ہے تو یہ جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک اور نقصان دہ صورتحال ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’کچھ لوگوں کا اقتدار کی کٹھ پتلی بن کر جمہوریت کو دھوکا دینا سنگین آئینی جرم ہے۔ یہ جمہوریت کو مٹانے کی کسی سازش سے کم نہیں ہے۔ سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے!‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔